خطبات محمود (جلد 5) — Page 466
خطبات محمود جلد (5) محمد علی کو مد مقابل بنا کر حضرت مسیح موعود پر جو اعتراض کروں گا ان کا کوئی جواب نہیں دے گا غلط تھا۔جب میں نے وہ اشتہار پڑھا تو میرے دل میں جوش پیدا ہوا کہ اس بے وقوف نے کیسی چالا کی کی ہے مگر اس کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم اس معاملہ میں کسی دشمنی اور کسی اختلاف کو راہ نہیں دیتے۔بلکہ جب کوئی حضرت مسیح موعود پر حملہ آور ہوگا ہم اس کا ضرور جواب دیں گے۔اُس نے اپنے اشتہار میں کئی طرح سے مغالطہ دئے ہیں۔مثلاً اس نے براہین احمدیہ حصہ پنجم سے ایسے حوالہ نقل کئے ہیں جن سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اس پیشگوئی سے مراد زلزلہ ہی ہے۔جنگ وغیرہ نہیں ہے۔لیکن اس کو معلوم نہیں کہ وہاں جو تعیین کی گئی ہے وہ اس پہلے زلزلہ کے متعلق ہے جو ۱/۴ پریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھا۔دوسرے اس نے یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب تو فرماتے ہیں کہ زلزلہ میری زندگی میں آئے گا۔اگر اس جنگ کو ہی اس پیشگوئی کا مصداق ٹھہرایا جائے تو پھر یہ آپ کی زندگی میں ہی کیوں شروع نہیں ہوئی۔یہ ٹھیک ہے کہ حضرت صاحب نے تحریر فرمایا تھا کہ میری زندگی میں ہی یہ پیشگوئی پوری ہوگی۔مگر خدا تعالیٰ نے ہی آپ کو الہاما یہ دعا سکھائی۔رب اخر وقت هذا ا۔اے خدا اس نشان کے وقت میں تاخیر ڈال دے۔پہلے جس طرح آپ کو کہا گیا تھا۔اسی کے مطابق آپ نے لکھا۔مگر پھر خدا تعالیٰ نے الہاما یہ دعا سکھلائی کہ اس نشان میں تاخیر ہو جائے۔اس لئے تاخیر ہوگئی۔پھر اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ جب زلزلہ کا لفظ موجود ہے تو اس سے جنگ کس طرح مراد لی جاسکتی ہے۔حالانکہ عذاب جنگ کے لئے زلزلہ کا لفظ قرآن مجید میں موجود ہے۔پھر یہ لکھا گیا ہے کہ اس ملک میں اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا۔مگر یہ کس قدر غلط ہے۔کیا یہ ملک جنگ کے اثر سے محفوظ ہے؟ اب تک کس قدر جانیں اس ملک کی اس جنگ کی نذر ہو چکی ہیں۔اور ابھی تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔اس پیشگوئی میں تو یہ فرمایا گیا ہے مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی با حال زار ہے یعنے یہ جنگ کسی خاص ملک سے متعلق نہیں ہوگی بلکہ عالمگیر ہوگی۔کیونکہ فرمایا۔اس کا خوف تمام جن و انس پر حاوی ہوگا۔اور اس کا خاص جولان گاہ وہ جگہ ہوگی جس کے ایک خطہ میں زار بھی ا: تذکره ص ۶۰۶ ہے :۔براہین احمدیہ حصہ پنجم۔