خطبات محمود (جلد 5) — Page 465
خطبات محمود جلد (5) ۴۶۴ غرض لوگوں کا آپ پر استہزاء کرنا آپ کی صداقت میں کوئی شک نہیں پیدا کرتا۔بلکہ اس سے آپ کی صداقت اور ظاہر ہوتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس سے انسی اور استہزاء نہ کیا گیا ہو۔ابھی کچھ دن ہوئے حضرت مسیح موعود کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔اس پر میں نے دوٹریکٹ مخالفین کی طرف سے دیکھتے ہیں جس میں انہوں نے ہنسی اور تمسخر کا پہلو ہی اختیار کیا ہے۔ایک ٹریکٹ پرسوں ہی میں نے دیکھا۔جس پر لکھا ہوا تھا ” بغرض ریویو" چونکہ حضرت مسیح موعود کی اس پیشگوئی کے متعلق دو مضمون شائع ہوئے ہیں۔ایک میری طرف سے اور ایک مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے۔اس لئے اس اشتہار کے لکھنے والے نے اپنی طرف سے یہ چالا کی کی ہے کہ ابتداء میں مولوی محد علی صاحب کو مخاطب کر کے کچھ بُرا بھلا کہا ہے۔اور ہماری تعریف کر دی ہے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود پر اعتراض کئے ہیں۔اس سے اس نے یہ سمجھا ہو گا کہ قادیان والے تو اس خیال سے کہ میں نے ان کے مخالف مولوی محمدعلی کو برا کہا ہے۔میرا جواب لکھنے سے خاموش رہیں گے۔اور مولوی محمد علی کو جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں۔کیونکہ اس نے اپنے مضمون میں یہی لکھا ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ایسے ایسے شخص پیدا ہوتے ہیں اور بس۔اس کے سوا اسے اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ کوئی مرزا صاحب کو مانے یانہ مانے اس کے نزدیک ماننا یا نہ ماننا برا بر ہے۔اس طرح جب دونوں طرف سے جواب نہیں ملے گا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کے متعلق ہمارے ڈالے ہوئے شکوک بیٹھ جائیں گے۔لیکن اس بے وقوف نے ہمارا اندازہ بھی اپنے نفس پر ہی کیا ہے۔حالانکہ جب کوئی حضرت مسیح موعود کو گالیاں دے اور آپ کی تکذیب کرے گا تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو جواب دیں۔خواہ وہ اعتراضات کسی کو مخاطب کر کے کئے گئے ہوں یا ساتھ ہی ہمارے کسی دشمن کو بھی اس میں کچھ کہا گیا ہو۔کیونکہ خدا کے فضل سے ہم ان لوگوں میں نہیں ہیں جو اپنی دشمنی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کی شان کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔پھر کیا اسے معلوم نہیں کہ ہماری جو مولوی محمد علی صاحب وغیرہ سے مخالفت ہے وہ کسی ذاتی خصومت کی بناء پر نہیں بلکہ ہمارے خیال میں وہ چونکہ حضرت مسیح موعود کے خلاف چل رہے ہیں اس لئے ان سے اختلاف ہے۔اب اگر کوئی شخص ان لوگوں کو برا بھلا کہتا ہؤا حضرت مسیح موعود پر بھی حملہ کر دے تو ہم اس خیال سے کہ اس نے ہمارے مخالفوں کو بُرا بھلا کہا ہے۔ان اعتراضوں کو دور کرنے سے اغماض نہیں کریں گے جو حضرت مسیح موعود پر کئے گئے ہوں گے۔کیونکہ ہمارا ان لوگوں سے بھی تو اختلاف حضرت مسیح موعود کی خاطر ہی ہے۔پس اس کا یہ خیال کہ میں قادیان والوں کی کچھ تعریف کر کے اور مولوی