خطبات محمود (جلد 5) — Page 464
خطبات محمود جلد (5) ۴۶۳ لیکن بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی عقلیں ماری جاتی ہیں۔اور وہ نبی سے ہنسی اور استہزاء سے پیش آتے ہیں۔دنیاوی لحاظ سے سید احمد خاں بڑا آدمی تھا۔بڑا سنجیدہ اور بڑا مہذب ہی نہیں بلکہ دوسروں کو تہذیب سکھلانے کا مدعی تھا۔اور اپنے کام میں بڑا مستقل تھا۔مولویوں کے فتووں سے ہر گز نہیں ڈرا۔جو کام اس نے شروع کیا تھا اس میں لگا ہی رہا۔اس نے مولویوں اور سجادہ نشینوں کے خلاف بہت سے مضامین ان کی غلطیوں اور بد اخلاقیوں کے ظاہر کرنے کے لئے لکھے۔لیکن اُس نے بھی حضرت مسیح موعود کے معاملہ میں اپنے تمام اعلیٰ اور سنجیدہ اخلاق کو چھوڑ دیا۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علی گڑھ تشریف لے گئے تو اس سے کسی نے کہا کہ آپ حضرت مرزا صاحب سے ملیں۔اس نے کہا۔یوں ملنے کا کیا فائدہ ہے۔ملنے کا مزا تو تب ہے کہ مرزا صاحب پیر بنیں اور میں مُرید اور پھر روپیہ جمع کریں۔جس میں سے دوا حصّہ وہ خود لے لیں اور ایک حصہ مجھے کالج کے لئے دے دیں۔دیکھو بڑے اعلیٰ اخلاق اور دوسروں کے اخلاق کی اصلاح کرنے کا مدعی تھا۔مگر جب حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں آتا ہے تو ہنسی سے ہی کام لیتا ہے۔حضرت صاحب سے ہنسی کرنے کی خدا تعالیٰ نے جو سزا اسے دی وہ تو دی ہی۔مگر اُس کا یہ فعل ثبوت تھا اس بات کا کہ اس خُدا کے رسول کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سنجیدہ اور متین کہلانے والوں نے بھی ہنسی سے کام لیا۔پس یہ ایک ایسی سنت ہے کہ جس سے کوئی نبی اور رسول نہیں بچا۔حضرت مسیح موعود سے وہ کونسا گروہ ہے جس نے ہنسی نہیں کی۔اور کونسا فرقہ ہے جس نے استہزاء سے کام نہیں لیا۔مولوی بننے والوں نے آپ سے جنسی کی۔عالم کہلانے والوں نے آپ پر استہزاء کیا۔گدی نشینوں اور فقیروں نے آپ پر آوازے کسے۔لیڈروں اور واعظوں نے آپ سے محول کئے۔حضرت مسیح موعود کے پاس بعض شخص آتے کہ ہمیں اتنے روپیہ مثلاً ایک لاکھ کی ضرورت ہے۔یہ روپیہ دیجئے۔آپ اس کو سمجھاتے کہ ہمارے پاس کہاں روپیہ ہے۔مگر وہ اصرار کرتے کہ نہیں جی۔آپ کے پاس ہیں۔آپ ضرور دیں۔لیکن جب ان سے پوچھا جاتا کہ تمہیں کس نے یہاں بھیجا ہے تو کوئی نہ کوئی بڑا مولوی ہی معلوم ہوتا۔اب دیکھو وہ صرف ایک خیالی خوشی پر کہ یہ شخص جا کر مرزا صاحب سے مانگے گا۔اور مرزا صاحب اس کو دیں گے نہیں۔اور اس طرح ایک ہنسی ہوگی۔ایسا فعل کرتے اور اس خیالی خوشی کی خاطر وہ خود جھوٹ بولتے اور گناہ کے مرتکب ہوتے۔اور وہ غریب بے وجہ تکلیف میں پڑتا۔وہ نادان صرف حدیث کے ظاہری الفاظ کے مطابق نہ دیکھ کر حضرت مسیح موعود پر ہنسی کرتے مگر نہیں جانتے تھے کہ آپ کا سلسلہ بھی اسی طرح غربت سے شروع ہونا تھا جس طرح دوسرے نبیوں کے ہوا کرتے ہیں۔