خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 427

خطبات محمود جلد (5) ۴۲۶ ہے کہ اسلام کی بنیاد ایسی تعلیم سے شروع ہوئی جس کا کوئی تعلیم مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے تھوڑا ہے۔پھر اس کی انتہاء یہ ہے کہ اس پر چل کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے سایہ کے نیچے انسان آجاتا ہے۔خُلد میں اس کا مقام تیار کیا جاتا ہے۔پس مسلمان اس انتہا پر بھی جس قدر خُد اتعالیٰ کی حمد کریں تھوڑی ہے۔خدا تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ مسلمانوں کو جو کتاب ملی۔وہ الحمد سے شروع ہوتی ہے۔پھر وہ تعلیم ملی کہ جس پر چلنے والے کا انجام بھی الحمد پر ہی ہوتا ہے۔پس یہ کتنی بڑی نعمت ہے۔دیکھو ایک شخص دوسرے کو کہے کہ تم فلاں راستہ پر چلے جاؤ۔اس کے تمہیں یہ یہ فوائد حاصل ہوں گے۔لیکن اگر اسے چلتے چلتے اخیر پر بڑی گہری غار دکھائی دے یا کوئی اور نقصان یا تکلیف پہنچے اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہو تو گو وہ ابتداء میں اس راستہ بتانے والے کا شکریہ ادا کر دے۔اور جزاک اللہ کہے کہ اس نے مجھ پر بڑی مہربانی کی ہے کہ رستہ بتا دیا ہے۔مگر اس کی انتہا اس بات پر ہوگی کہ کہے گا وہ بڑا ہی خبیث اور شریر انسان تھا جس نے مجھے یہ راستہ بتایا۔اور مجھے تکلیف اور مصیبت میں ڈالا۔لیکن اگر واقعہ میں اسے اس راستہ پر چل کر بڑا آرام اور فائدہ ہوگا تو وہ انتہا پر بھی اس کا شکریہ ادا کرے گا۔اور اس کا شکر گزار ہو گا کہ اس نے مجھے کیا اچھا راستہ بتایا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی ابتد احمد سے ہوتی ہے۔مگر انتہاء حمد سے نہیں ہوتی۔اور بعض ایسی ہوتی ہیں۔جن کی ابتداء حمد سے نہیں ہوتی مگر انتہا حمد سے ہوتی ہے۔مثلاً بعض ایسی باتیں ہیں جو بذات خود بری ہوتی ہیں۔مگر ان سے انسان ٹھوکر کھا کر انجام کار ہلاکت اور تباہی سے بچ جاتا ہے لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کی تعلیم میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ایسے سامان رکھ دئے ہیں کہ اس کی ابتداء بھی حمد سے ہوتی ہے۔اور انتہاء بھی حمد سے۔پس ایک تو یہ معنی ہیں۔وآخر دعوهم ان الحمد لله رب العالمین (یونس : ۱۱) کے لیکن ایک اور معنے بھی ہیں۔اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں مسلمانوں کے لئے دو زمانے مقرر فرمائے ہیں۔ایک ابتدائی زمانہ اور دوسرا آخری زمانہ۔اور آخر دعواهم ان الحمد لله رب العلمین میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ جس طرح حشر کے دن مسلمانوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ حمد ہی حمد کرتے نکلیں گے۔اسی طرح اسلام کی ابتداء بھی حمد سے ہی شروع ہوئی ہے اور اس کی انتہا بھی حمد پر ہی ہوگی۔چنانچہ سورۃ فاتحہ میں مسیح موعود کی پیشگوئی ہے۔اور پہلے نبیوں نے ترمزی کتاب الادب باب مثل الصلوة الخمس