خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 407

خطبات محمود جلد (5) ۴۰۶ لیکن ہمارے لئے نہیں ہے۔ہر ایک ہمارا دشمن ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے اپنے سلسلہ کی ترقی کیلئے اسی سر زمین کو چنا ہے جو گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت ہے۔اس لئے یہی مبارکباد کے قابل ہے۔اگر کوئی سلطنت اس سے بڑھ کر اچھی اور محمد ہ ہوتی تو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی نشو نما کے لئے اُسی کو چنا۔لیکن خُدا تعالیٰ نے اس کو چنا ہے جو اس کی فضیلت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔پس یہ حکومت جس قدر وسیع ہوگی۔ہمارا سلسلہ بھی وسیع ہوتا جائے گا۔اور ہمیں آزادی حاصل ہوتی جائے گی۔اس لئے اگر کوئی ہم سے پوچھے تو یہی کہیں گے کہ وہ علاقے جہاں ہمارے آدمی قتل کئے گئے۔کل کی بجائے آج ہی گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت آئیں تو ہم خوش ہیں۔کیونکہ ہماری ترقی گورنمنٹ برطانیہ سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ کا فعل اور ہمارا مشاہدہ اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ماتحت ہمیں کامیابی ہوگی۔ہم یہ جانتے ہیں۔اور یقین رکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بھی کامیابی ہوگی۔مگر اس میں شک نہیں کہ وہاں بڑی بڑی تکلیفوں اور مشکلوں کے بعد ہوگی۔اور صاف بات تو یہ ہے کہ وہاں خون کی آبیاری سے ہوگی۔مگر یہاں اس کے مقابلہ میں کچھ تکلیف نہیں ہے۔ہم نے تو اپنے ساتھ سلوک میں اتنا فرق دیکھا ہے کہ دیسی مجسٹریٹوں کے پاس حضرت مسیح موعود کا جو مقدمہ گیا ہے اس کو انہوں نے خراب ہی کیا ہے لیکن اس کے برعکس دیکھئے۔ایک انگریز کے لے پاس مقدمہ جاتا ہے۔اور قتل کا مقدمہ ہے۔مدعی عیسائی ہے۔مگر مجسٹریٹ اپنے پاس حضرت مسیح موعود کو کرسی پر بٹھاتا ہے۔دوسری طرف ایک خبیث الفطرت کمپینہ اور رذیل شخص کی طرف سے مقدمہ ہے۔اور فضول مقدمہ ہے۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود کو بیماری کا دورہ ہوتا ہے۔ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ضعف طاری ہو جاتا ہے۔وکیل مجسٹریٹ سے سے پانی پلانے کی اجازت مانگتا ہے۔مگر وہ ایسی حالت میں بھی پانی پلانے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ فرق ہے انگریزوں اور دوسروں میں۔پس ہمارا دل تو یہی کہے گا اور کہتا ہے کہ جن کی حکومت اور سلطنت سے ہمیں امن ملا ہے انہیں کے فوائد سے ہمیں ہمدردی ہے۔پھر جب ہمارا اصل مدعا اور مقصد دین کی اشاعت ہے اور یہ گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہو کر حاصل ہو سکتا ہے تو پھر کیوں ہم گورنمنٹ کی ہر طرح سے امداد اور ہمدردی نہ کریں۔فرض کر لو۔گورنمنٹ کے خلاف جوش پھیلا کر اور اس سے ہمدردی نہ کر کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔مگر کن کو انہیں کو جنکی آنکھ میں ہم کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔اگر خدانخواستہ ان لوگوں کو پارلیمینٹ مل جائے۔تو پہلا ایکٹ یہی پاس کریں کہ احمدیوں کو کاٹ ڈالو۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کبھی ان کا داؤ چلا ہے انہوں نے ہمیں نقصان پہنچانے میں کمی نہیں کی۔اور اس کی دادرسی گورنمنٹ برطانیہ سے ہی ہوئی ہے۔پس ہمیں عقل اور مشاہدہ اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم بتا رہی ہے کہ ہمارے فوائد گورنمنٹ برطانیہ 1: کیپٹن ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور۔: - آتما رام۔