خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 404

خطبات محمود جلد (5) ۴۰۳ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا۔جب تک کہ تمہاری جان سے بھی میں تمہیں پیارا نہ لگوں کے یہ سنکر حضرت عمرؓ نے کہا۔اچھا یا رسول اللہ اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی پیارے ہیں۔حضرت عمرؓ کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے علم کی کمی کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے اپنی جان کے سوا باقی سب سے پیارے ہیں۔ورنہ آپ کے ایمان میں کوئی کمی اور نقص نہ تھا۔کیونکہ جب آپ کو علم ہو ا تو فوراً کہدیا کہ آپ مجھے سب چیزوں سے پیارے ہیں۔اگر ان کا ایمان کامل نہ ہوتا تو ان کو یہ جواب دینے میں کچھ دیر لگتی۔اور ایمان کے کامل ہونے تک یہ جواب نہ دے سکتے لیکن انہوں نے فوراً کہدیا۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے ایمان میں کوئی نقص نہ تھا۔صرف اس بات کا علم حاصل نہ تھا۔یہ تو حضرت عمرؓ کا ذکر ہے۔لیکن ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ خُدا اور اُس کے رسول کے راستہ میں ہر ایک پیاری سے پیاری اور عزیز سے عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔اور پورے طور پر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں لگ جائے۔جو آیات اس وقت میں نے پڑھی ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ نے انسانی ترقی کا راستہ اور مشکلات اور مصائب سے بچنے کی راہ بتلائی ہے۔اور بتایا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس میں اس طرح لگا دے کہ اسے اپنے آپ کی بھی ہوش نہ رہے۔اور بڑے شرح صدر اور خوشی سے اس کام کو کرے۔پھر اس طرح اس میں مشغول ہو کہ اس کے کرنے میں اسے خوشی ہی نہ ہو بلکہ اس میں اسے کوئی مشکل مشکل اور کوئی روک روک معلوم نہ ہو اور پھر قوم کا ہر ایک فرد ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش اور کوشش کرے۔تب کامیابی حاصل ہوتی ہے۔لیکن اگر یہ بات نہ ہو تو وہ خطرناک زلازل اور مصائب آتے ہیں جن کو وہ قوم برداشت نہیں کر سکتی اور تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔میں نے مثالیں دیگر بتایا تھا کہ موجودہ زمانہ میں دیکھ لو۔قوموں نے جو مقصد اور مدعا قرار دیا ہوا ہے۔اس کے لئے مال۔جان عزیز رشتہ دار اور وطن غرضیکہ سب کچھ قربان کر رہے ہیں۔اور کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔ہماری جماعت کا بھی ایک مدعا اور مقصد ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا۔اور دوسروں کو رضا الہی حاصل کرنے کے طریق بتانا۔لیکن اس مقصد کے حصول میں ہمیں اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔جب تک ہم اپنے آپ کو اس کلیہ کے ماتحت نہ کر دیں۔جو اس وقت تک صفحہ دنیا پر چلا آیا ہے۔اور وہ یہی کہ اس مقصد کے لئے ہم تمام پیاری سے پیاری اور عزیز سے عزیز چیزوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔لیکن اگر کسی ایک چیز کو بھی اس قربانی سے باہر رکھیں تو سمجھ لینا چاہئیے کہ ہماری قربانی میں نقص آ گیا ہے۔اور ہم پورے طور پر اس کلیہ کے ماتحت نہیں ہوئے۔پس ہمیں چاہیئے کہ جب 1 : بخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان۔