خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 376

۳۷۵ 44 خطبات محمود جلد (5) خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو فرموده ۲۶ جنوری ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ العصر کی تلاوت فرمانے کے بعد فرمایا :۔کہ اسلام کی تعلیم کا نچوڑ اور خلاصہ تو ا اله الا اللہ ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ قال لا إلهَ إِلَّا الله - فدخل الجنة 1۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ صرف لفظ لا إلهَ إِلَّا اللہ کہنے سے ہی کوئی شخص جنت میں داخل ہو جائے گا۔کیونکہ ان الفاظ کا مفہوم تو اسلام کے سوا غیر مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہودونصاری کے متعلق یہی فرماتے ہیں کہ ان کے پاس بھی صداقتیں ہیں اور وہ بھی خُدا کے نبیوں کے نوشتوں کے حامل ہیں۔مگر باوجود اس کے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں تو نجات نہیں پا سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دونوں قولوں میں بظاہر اختلاف معلوم ہوتا ہے۔در حقیقت ان میں کوئی اختلاف نہیں۔کیونکہ لا إله إلا الله کہنے سے یہ مراد ہے کہ من عمل بالا سلام یعنی جو اسلام کے مطابق اپنی زندگی بنائے وہ لا إله إلا الله کہتا ہے۔اس لئے لا إله إلا الله سے یہ استنباط نہیں ہوتا کہ انسان بے عمل جنت میں داخل ہو جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ لا إلهَ إِلَّا الله کے کیا معنے ہیں پھر آپ ہی فرمایا کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ کو ایک جانو۔اور مجھے کو اس کا رسول مانو۔غرض اللہ کے مانے میں اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی سب تعلیم اور قرآن و حدیث بھی داخل ہیں۔یعنے اسلام میں جس قدرا حکام ہیں وہ سب پھل ہیں۔اور لا إلهَ إِلَّا الله بیج ہے۔جس کے پاس صحیح اور سالم بیج ہوگا۔اور وہ اس کو بوئے گا۔تو ضرور ہے وہ پھل لائے اور جس کو اچھے پھل حاصل ہوں وہ سمجھ لے کہ ان کا بیج اچھا تھا۔اور جس کو کوئی پھل نہ ہو وہ سمجھ لے کہ اس کا بیج ناقص تھا۔تو جب دل صاف ہو تب ہی ایمان درست ہوتا ہے۔لیکن اگر پھل اچھا نہیں پیدا ہوا۔تو معلوم ہوا کہ اس بیج نے دل سے تعلق نہیں پکڑا جیسے مثلاً زمین میں کوئی شخص بیج ڈالے مگر وہ ناقص اور خراب ہو۔تو ضرور ہے کہ اس بیچ کوکوئی پھول پھل نہ آئے اور یہ کہ وہ زمین سے سر ہی نہ اٹھائے۔ترمذی کتاب الایمان باب ماجاء فيمن يموت وهُوَ يشهد أن لا إله إِلَّا اللهُ