خطبات محمود (جلد 5) — Page 336
خطبات محمود جلد (5) ٣٣٦ سے تو انسان کا کوئی تعلق نہیں لیکن قول سے تعلق ہے کیونکہ وہ انسانوں کے لئے ہی نازل ہوتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ وہ انسانوں کی زبان میں ہی نازل کیا جاتا لیکن انسانوں کی بنائی ہوئی چیز محدود ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کو بھی انسانی زبان میں جو محدود ہے کلام نازل کرنا تھا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر خدا تعالیٰ کے کلام کو سمجھتا کون۔اس میں شک نہیں کہ عربی زبان الہامی ہے لیکن وہ نہیں محفوظ رہ سکتی تھی جب تک کہ اس کا تعلق انسانوں سے نہ ہوتا۔انسانوں کے ساتھ تعلق رکھنے کے بغیر وہ مٹ جاتی۔خدا تعالیٰ کی دوسری پیدا کردہ چیزوں کا تعلق اگر انسان سے نہ ہوتا تو وہ زندہ رہ سکتی تھیں مثلاً اگر انسان گھوڑوں کو نہ پالتا تو وہ جنگلوں میں پل سکتے تھے جیسا کہ اب بھی بعض جنگلوں میں پلتے ہیں۔یہی حال اور چیزوں کا ہے۔لیکن عربی زبان کا تعلق جب تک اِنسانوں سے نہ ہوتا وہ قائم نہ رہ سکتی تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے اسے بنایا تومحدود لیکن اس میں وسعت پیدا کرنے کا ایک اور طریق رکھا اور وہ یہ کہ استعاروں اور تشبیہوں میں معانی کی وسعت رکھی گئی۔یہ بالکل صحیح بات ہے کہ عربی زبان میں جس قدر وسعت ہے اس قدر دُنیا کی اور کسی زبان میں نہیں۔مگر خدا تعالیٰ دُنیا کو جو اپنے معارف اور حقائق سمجھانا چاہتا تھا ان کو یہ زبان بھی نہیں اُٹھا سکتی تھی اس لئے اس میں خدا تعالیٰ نے استعارہ کا رنگ اختیار کیا اور اس طرح لغت بہت وسیع ہو گئی۔چونکہ الفاظ محدود اور پھر ان کے معانی محدود تھے اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے غیر محدود معارف کا احاطہ نہیں کر سکتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے روحانی علوم کو وسیع کرنے کے لئے اپنے کلام میں ابتداء سے ہی تشبیہ اور استعارے کا باب کھول رکھا ہے چنانچہ دُنیا میں جس قدر ایسی کتابیں موجود ہیں جن کی نسبت دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہیں ان میں سے ایک بھی تو ایسی نہیں ہے جس میں استعارے اور تشبیہات نہ ہوں۔حضرت داؤد ، حضرت موسی ، حضرت عیسی اور بہت سے انبیاء پر خدا تعالیٰ کے کلام کے نازل ہونے کی تو قرآن کریم تصدیق کرتا ہے انکے علاوہ قرآن کریم یہ بھی کہتا ہے کہ ہر ایک قوم میں نبی آئے ہیں لے اور ایسی قومیں اب بھی موجود ہیں جو اس بات کا دعوی کرتی ہیں کہ ہم میں نبی آئے۔اُن کے پاس جو کلام موجود ہے گو وہ کسی صورت میں ہی ہوتا ہم اس میں بھی استعارے پائے جاتے ہیں اور قرآن کریم میں تو استعاروں کے لئے بڑا وسیع دروازہ کھلا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ابتداء سے جو اپنے کلام میں یہ طریق جاری کیا ہوا ہے اور تمام نبیوں پر اسی طرح نازل ہوا ہے تو اس میں کوئی بہت بڑی حکمت ہے ورنہ کیا یہ یونہی ہے ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ کے کلام کی نسبت یہ کبھی وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔پس اس میں یہی حکمت ہے کہ اس طرح معانی اور مطالب میں وسعت ہو جائے اور انسان کے لئے روحانی علوم میں ترقی کرنے کا الرعد : فاطر: ۲۵