خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 330

خطبات محمود جلد (5) ۳۳۰ شخص اچھا کپڑا پہن کر اظہار کرتا ہے حالانکہ اس کا فائدہ اس کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا تو مذہب جو ایک بہت ہی خوبصورت اور دوسروں کے لئے مفید ہے اس کا کیوں نہ اظہار کیا جائے۔پس اس کا اظہار کرو اور اس کو خوب پھیلاؤ جتنا اس سے کسی کو فائدہ ہوگا اسی قدر تم کو بھی ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انی مکاثر بکم الامم اے کہ میں کثرتِ اُمّت کے باعث فخر کروں گا۔ہر ایک نبی اپنی اپنی امت کا امام ہوگا۔اس وقت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کے امام ہوں گے اور اپنی اُمت کی کثرت پر فخر کریں گے۔لیکن کیا صرف اُمت کا زیادہ ہونا کوئی فخر کی بات ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ آپ کے لئے فخر کی یہ بات ہوگی کہ جب آپ کے ذریعہ سب سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا تو اس کے بدلہ میں آپ کو بھی سب سے زیادہ اجر ملے گا اور سب سے بڑھ کر آپ کا درجہ ہوگا اسی لئے آپ فخر کریں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ تو یوں بھی سب انبیاء سے بڑا ہے مگر اس طرح اور زیادہ بڑا ہوگا۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص کسی کو جس قدر نفع پہنچاتا ہے اتنا ہی اس کو بھی اس کا فائدہ ہوتا ہے۔۔پس اگر کوئی کسی کے ذریعہ مسلمان ہو جائے اور اُسے ہدایت نصیب ہو تو جس قدر وہ نیکیاں کرے گا ان کا ثواب اُسے مسلمان کرنے والے کو بھی ملے گا اور پھر اس کے ذریعہ جس کو ہدایت ہوگی اس کی نیکی کرنے سے بھی پہلے شخص کے نام ثواب لکھا جائے گا ہاں ان کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی بلکہ اس کے علاوہ خدا تعالیٰ ثواب دے گا۔گویا شود در شود، شود در سود ہو کر خدا کی طرف سے ملتا ہے۔اب جو لوگ دوسروں کو سیدھی راہ دکھانے کی کوشش نہیں کرتے ان کے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس بات کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں اگر واقف ہوتے تو کبھی ایسا نہ کرتے۔دیکھو یورپ کو اپنی سولیزیشن پر بڑا گھمنڈ ہے حالانکہ اسلام کے مقابلہ میں اسکی کچھ بھی حقیقت نہیں مگر وہ اس کو اس زور سے بات بات پر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے کان پھٹے جاتے ہیں۔وہ صرف یورپ کے لوگوں نے چند قواعد ایجاد کئے ہیں اور اس میں اس قدر غلطیاں ہیں کہ وہ بعض اوقات ہلاکت کا باعث ہو جاتی ہیں لیکن دیکھ لو وہ لوگ دُنیا کے سامنے اپنی سولیزیشن کس زور سے پیش کرتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہماری جماعت اپنے مذہب کو پیش نہ کرے۔جو شخص اپنے مذہب کو دوسروں تک نہیں پہنچا تا وہ غفلت میں ہے اور نہیں جانتا کہ اس کا فرض کیا ہے۔اس وقت تک اگر ہر ایک شخص ایک آدمی کو بھی سلسلہ میں داخل کرتا تو چند سالوں میں تمام ہندوستان احمدی ہو جاتا۔ڈیڑھ ہزار سالانہ احمدی ہونے والے کیا حقیقت لے سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب في تزویج الا بکار۔مسلم کتاب الذکر والدعاء والتوبہ باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر