خطبات محمود (جلد 5) — Page 321
خطبات محمود جلد (5) ۳۲۱ پیچھے ڈالدیا۔کیوں اس لئے کہ اس نے خدا تعالیٰ کے انعامات کی قدر نہ کی۔خدا تعالیٰ کے ان لوگوں پر کتنے بڑے فضل ہوئے تھے۔ایک ایسے جابر دشمن سے انہیں چھڑا یا گیا جس سے چھوٹنے کی انہیں کبھی اُمید نہ تھی۔وہ اس کے مقابلہ میں ہر طرح سے کمزور اور نا توان تھے۔ان کے لڑکوں کو مار دیا جاتا تھا اور ان کی لڑکیاں زندہ رکھی جاتی تھیں مگر باوجود ان کی اس حالت کے خدا تعالیٰ نے انہیں نجات دی اور ایک خطرناک راستہ سے سمندر میں سے صحیح و سلامت پار کر دیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ان کے دشمن کو غرق کر دیا پھر بھی ان لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کو نہ مانا اور جب انہوں نے حکم دیا کہ جاؤ لڑ و تو با وجود اس کے کہ انہیں فتح اور کامیابی کا وعدہ بھی دیا گیا تھا انہوں نے لڑنے سے انکار کر دیا اور کہ دیا کہ ہم سے نہیں لڑا جاتا۔یموسی اِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 10 اے موسی تو اور تیرا خدا جا کر ان سے لڑو ہم تو یہ بیٹھے ہیں۔جب تک وہ لوگ اس ملک میں موجود ہیں ہم تو کبھی بھی اس میں داخل نہ ہوں گے۔تو اس طرح انہوں نے اس ملک میں داخل ہونے سے انکار کر دیا جس کی سزا میں خدا تعالیٰ نے ان کا وعدہ چالیس سال اور پیچھے ڈال دیا۔لڑنے والے عموما میں اکیس سال کے لڑائی کے قابل ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اوسط عمر ساٹھ سال فرمائی ہے ۲۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے وہ چھوٹی سے چھوٹی عمر کا انسان جس نے لڑنے سے انکار کیا اس چالیس سال کے عرصہ میں مر گیا تب جا کر ان کا وعدہ پورا ہو ا۔چنانچہ بائیبل سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے چالیس سال تک وہی زندہ رہا جس نے لڑنے سے انکار نہیں کیا تھا اور انکار کرنے والے سب کے سب ہلاک ہو گئے تو ان سے وعدہ مل گیا۔پس اگر ہم نے بھی اپنے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی اور خدا تعالیٰ کے انعامات کے شکر گزار نہیں ہوئے تو یہ سال ہمارے لئے کیا تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔کیا اس سے پہلا سال اسی خدا کا نہ تھا۔جس کا یہ ہے اسی کا تھا۔پھر اس سال نے کیا کرنا ہے۔ہاں اگر کوئی ذریعہ ہمیں فاتح اور کامیاب بنا سکتا ہے تو وہ تعلق ہے جو خدا تعالیٰ سے ہو۔اور اگر کوئی چیز خدا تعالیٰ کے رحم اور فضل کو جذب کر سکتی ہے تو وہ وہ ایثار ہے جو ہم خدا کی راہ میں دکھائیں لیکن اگر ہم میں ایثار اور خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں اور ہم اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں کامل نہیں ہوئے تو یہ سال ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتا۔اور جو سال ایسا ہے کہ اس میں ہمارا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہو گیا المائده : ۲۵ - ۲ ترمذی کتاب الزهد باب ما جاء في فَنَاءِ اعمار هذه الامة ما بين الستين إلى السبعين۔