خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 320

خطبات محمود جلد (5) دکھائی دے۔مگر انسان جس کی نظر ظاہر پر ہوتی ہے وہ ظاہر پر لٹو ہو کر بعض اوقات یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا۔تو پیشگوئی میں ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں۔اس لئے ہم نہیں جانتے کہ یہ پیشگوئی اس رنگ میں جس میں کہ مجھی گئی ہے پوری ہوگی یا کسی اور رنگ میں۔پھر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ دنیا اس کے پورا ہونے کو فوراً دیکھ لے گی یا ہمیں بھی اس کے پورا ہونے کا پتہ نہیں لگے گا۔اور بعد میں اس سے بڑے بڑے نتائج نکلیں۔پس ہوسکتا ہے کہ ساری دُنیا اس پیشگوئی کو پورا ہوتا دیکھ لے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس طرح حضرت مسیح نے کہا ہے کہ وہ چوروں کی طرح آئے گا لے اس لئے یہ بھی چوروں کی طرح آئے۔مگر وہی دو تین چار پانچ دس ہیں سال کے بعد بڑے بڑے اہم نتائج پیدا کرنے کا موجب ہو جائے۔بعض درخت بڑے ہوتے ہیں لیکن ان کے بیچ بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور بعض چھوٹے ہوتے ہیں مگر ان کے بیج بڑے ہوتے ہیں۔پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ پیشگوئی کس رنگ میں پوری ہوگی اور کس رنگ میں نہیں۔ہاں سوال یہ ہے کہ ہماری جماعت نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے انعامات کی مستحق قرار دے لیا اور انعام حاصل کرنے کے قابل بنالیا ہے یا نہیں۔اس کے لئے خدا تعالیٰ ایک معیار مقررفرماتا ہے اور وہ یہ کہ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْ تُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔یاد کرو اس بات کو کہ جب تمہارے خدا نے بڑے زور اور بڑی شان و شوکت سے اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ لئن شَكَرْتُمْ اگر تم میرے شکر گزار بنو گے اور میرے پہلے انعامات کی قدر دانی کرو گے تو میں اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تمہیں بڑے بڑے انعام دوں گا لیکن اگر تم میرے پہلے انعامات کی بے قدری کرو گے اور ان کے لئے شکر گذار نہ بنو گے تو یہ بھی یادرکھو کہ میں عذاب بھی بڑا سخت دیا کرتا ہوں۔یہ ایک معیار ہے جواللہ تعالیٰ نے بتایا ہے اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ آیا میں انعام پانے کا مستحق ہوں یا عذاب کا۔پس بجائے اس کے کہ ہماری جماعت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد دیں اور خوش ہوں کہ ۳۳۵ ھ آ گیا ہے انہیں اپنی حالت پر نظر کرنی چاہیئے۔۱۳۳۵ھ میں کوئی زیادہ بات نہیں، یہ بھی ایسا ہی سال ہے جیسے کہ پہلے تھے۔ہاں اس میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کے متعلق ایک وعدہ اور پیشگوئی سمجھی جاتی ہے اور بے شک یہ ایک خصوصیت ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَئِن شَكَرْتُم لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِید کہ وعدے بھی ایسی ہی قوم کے ساتھ پورے ہوتے ہیں جو اپنے آپکو ان کا اہل ثابت کر دیتی ہے اور جو اہل ثابت نہیں کرتی اس سے خدا تعالیٰ اپنے وعدے بھی ٹال دیتا ہے۔دیکھو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے ایک وعدہ تھا لیکن خدا تعالیٰ نے اسے چالیس سال متی ۴۳/ ۲۴ -