خطبات محمود (جلد 5) — Page 318
خطبات محمود جلد (5) ۳۱۸ کوئی کہے ۳۳۵ ھ تو فتح اور کامیابی کے لئے مقرر ہے اور خدا نے کہہ دیا ہے کہ ”مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک آتا ہے۔“ اے اِس لئے ہمیں ضرور کامیابی ہوگی۔مگر ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئیے کہ یہ پیشگوئی دانیال نبی کی کتاب میں ہے اور دانیال نبی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے اتباع میں سے تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک اولوالعزم نبی تھے اور خاص شان رکھنے والے تھے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ سے مشابہت دی ہے۔اور جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت دی جائے وہ کوئی معمولی انسان نہیں ہو سکتا۔آپ سے خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ تو اور تیری قوم فلاں ملک کی وارث بنائی جائے گی لیکن چونکہ ان کی قوم نے اپنے آپ کو اس لائق نہ بنایا کہ خدا تعالیٰ اس کو اپنا یہ انعام دیتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس وعدہ کو چالیس سال پیچھے ڈال دیا ہے۔پس جب موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم الشان نبی کی پیشگوئی کو چالیس سال پیچھے ڈال دیا جا سکتا ہے تو حضرت دانیال کی پیشگوئی کو کیوں پیچھے نہیں ڈالا جاسکتا۔اگر خدا تعالٰی کو کسی کا لحاظ یا کسی کی خاطر منظور ہوتی تو موسیٰ اس بات کے زیادہ مستحق تھے کہ ان کی قوم کو موعودہ ملک دے دیا جاتا کیونکہ وہ صاحب شریعت اولوالعزم نبی تھے۔پھر خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے كلم الله موسی تکلیمات کہ جب خدا تعالیٰ نے موسیٰ سے کلام کیا تو درمیان میں کوئی روک اور پردہ نہ تھا۔اتنے بڑے نبی کی پیشگوئی کو جب اس کی جماعت کی شستی اور نالائقی کی وجہ سے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے تو حضرت دانیال کی پیشگوئی کو کیوں پیچھے نہیں ڈالا جا سکتا۔پس ۳۵ ا ھ میں ہمارے لئے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اس میں تو شک نہیں۔اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے ہماری جماعت کے ساتھ اس سال کا خاص تعلق ہے۔پہلے تو یہ خیال تھا کہ شاید اس سنہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہومگر وہ تو اس سے پہلے ہو چکی اس لئے وہ مراد نہیں ہوسکتی بلکہ اس سال سے ہماری جماعت کی ترقی کی ابتداء مراد ہے۔وہ ترقی کیسی ہوگی ؟ رکس رنگ میں ہوگی؟ کس طرح ہوگی؟ اگر اس پیشگوئی کو جس طرح سمجھا گیا ہے اسی طرح درست مان لیا جائے تو بھی یہ باتیں نہیں بتائی جاسکتیں کیونکہ پیشگوئی کو پورا ہونے سے قبل سمجھنے میں تو ایک نبی بھی غلطی کھا سکتا ہے چہ جائیکہ ہم اس کے متعلق کچھ بتا سکیں۔پس اگر واقعہ میں ۱۳۳۵ھ میں جماعت حضرت مسیح موعود کی فتوحات کی ابتداء ہے تب بھی ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کس طرح اور کیا فتوحات حاصل ہوں گی۔اللہ تعالیٰ کے وعدے کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔کبھی بڑے زور سے ایک بات کہی ہوئی معلوم ہوتی ہے لیکن جب پوری ہوتی ہے ه دانیال ۱۲/۱۲ ۲ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (امر مثل :) قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةٌ (المائده: ۲۷) ۴ النساء : ۱۶۵