خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 304

خطبات محمود جلد (5) ۳۰۴ داخل ہو جاؤ تو انہیں سلام کرو۔پہلے حکم کے متعلق یہ اور فرمایا کہ اگر اندر آنے کی اجازت نہ ملے تو پھر داخل مت ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی اور تشریح فرما دی ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ پہلے اذن مانگو اور پھر اگر اجازت پاؤ تو مکان میں داخل ہو اور اگر اجازت نہ ہوتو نہ داخل ہوا۔اس اذن مانگنے کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح فرمائی ہے کہ یہ اذن تین دفعہ مانگو تین دفعہ کے بعد اگر اجازت نہ ملے تو واپس کوٹ آؤ۔یہ نہیں کہ بار بار آوازیں دیتے یا کنڈی کھٹکھٹاتے رہو۔اگر کسی کو داخل ہونے کی اجازت مل جائے تو اس کے لئے قرآن کریم نے یہ دوسرا حکم دیا ہے کہ تسلمو اعلیٰ اھلھا۔اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے والّذی نفسی بیدو لا تدخلوا الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا اولا ادلكم على شئ اذا فعلتموا تحاببتم افشوا السلام بینکم۔کہ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ مومن نہ ہو۔اور مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو۔اور کیا میں تمہیں آپس میں محبت کرنے کی ترکیب بتاؤں وہ یہ کہ آپس میں سلام کو خوب پھیلا و یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کہو۔اجازت مانگنے کے متعلق فرمایا کہ تین دفعہ مانگو۔یہ بات بھی اپنے اندر بہت بڑی حکمت رکھتی ہے بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ کسی کے دروازہ پر جا کر ایک بار کھٹکھٹائیں گے یا آواز دیں گے اگر کوئی آواز نہ آئے تو پھر ایسا ہی کریں گے حتی کہ گھنٹہ گھنٹہ اس طرح کرتے رہیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ تین دفعہ آواز یا دستک دو پھر اگر جواب نہ ملے تو واپس آجاؤ کیونکہ اندر سے اگر کوئی جواب نہیں دیتا تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ممکن ہے وہ گھر ہی نہ ہو یا اگر گھر میں ہو تو سویا ہوا ہو۔اس صورت میں اگر کوئی بار بار آواز دیتا ہے تو اس کی نیند خراب ہوگی اس لئے اس طرح کرنا پسندیدہ بات نہیں۔یا ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس آدمی سے ملنا ہی پسند نہیں کرتا یا اس سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لئے کوئی جواب بھی نہیں دے سکتا۔یا کسی ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ جواب نہیں دے سکتا۔ان تمام صورتوں میں بار بار آواز دینا یا گنڈی کھٹکھٹانا بہت معیوب اور نا پسندیدہ بات ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دفعہ آواز پہنچا کر اجازت لینی چاہئیے اگر مل جائے تو اندر چلے جاؤ اور اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ یہ نہیں کہ جب تک اندر سے کوئی آواز نہ آئے ٹلنا ہی نہیں۔اجازت نہ ملنے کے دونوں ل القور: ۲۹،۲۸ بخاری کتاب الاستيذان باب التسليم والاستيذان ثلثا النور: ۲۸ کتاب الایمان باب بیان انه لا يدخل الجنة الا المؤمنون وأن محبة المؤمنين من الايمان - مسلم