خطبات محمود (جلد 5) — Page 303
خطبات محمود جلد (5) ۳۰۳ ایک سیاح ابن بطوطہ ہندوستان میں آئے تھے وہ لکھتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں السلام علیکم کہنے کا طریق نہیں رہا اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اگر چہ یہ اور اسی قسم کی اور چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن درحقیقت یہ بہت بڑی بڑی ہیں۔یہی دیکھ لو السلام علیکم کہنا ایک معمولی سی بات ہے لیکن نتیجہ کے لحاظ سے کس قدر عظیم الشان ہے۔دن میں ایک انسان کئی بار دوسروں سے ملتا ہے اگر وہ تمام کے تمام اسے کہیں کہ خدا کی طرف سے تجھ پر سلامتی ہو تو خیال کرلو کہ اسے کتنا فائدہ ہوسکتا ہے۔لیکن اگر اسے ہزار انسان بھی آداب تسلیم اور بندگی وغیرہ کہے تو سوائے اس کے کہ یہ لغو فقرات اس کے سامنے دہرائے جائیں گے اور کچھ نہیں ہوگا۔آجکل مسلمان تمدن سے بہت دُور ہو چکے ہیں اور اسلام کو چھوڑ کر اور طرف نکل گئے ہیں اور السلام علیکم کہنے کو ہتک سمجھتے ہیں حالانکہ اس کی بجائے آداب ، تسلیمات وغیرہ جتنے الفاظ ر کھے گئے ہیں وہ سب لغو ہیں اور سلام ایک دعا ہے لیکن یہ مسلمانوں میں سے مٹ گئی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبات میں اس قسم کی باتوں کو بھی عام طور پر بیان کرتے تھے تا کہ لوگ ناواقفیت کی وجہ سے صداقت سے دور اور ان کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں جو پاک تعلیم پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔آج مجھے بھی خیال آیا کہ ایسی باتیں جو بظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کا نتیجہ بہت بڑا نکلتا ہے انہیں بیان کیا جائے تا کہ اگر ہماری جماعت میں سے بھی کوئی ان سے ناواقف ہو تو وہ واقف ہو جائے۔خدا کے فضل سے ہماری جماعت میں السلام علیکم کہنے کا طریق بہت عمدگی سے رائج ہے گو ہندوستان سے آنے والے لوگوں میں کچھ کمی ہے ایسے لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے گا پھر اپنی جماعت کے لوگ دوسرے لوگوں کو یہ باتیں آسانی سے سکھا سکیں گے کیونکہ ہر ایک شخص کو خواہ کوئی ہو نیکی سکھانا اور شریعت اسلام سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور خاص کر غیر احمدیوں کو۔کیونکہ جب وہ شریعت سے واقف ہوں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ واقفیت ہمیں احمدی جماعت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے اس لئے وہ احمدی بھی ہو جائیں گے اور یہ ایک ذریعہ ہوگا ان کے احمدی ہونے کا۔تو جولوگ ہماری جماعت میں سے ان باتوں پر عمل کرتے ہیں۔میرے بیان کرنے سے ان کے دلوں میں خاص اہمیت گڑ جائے گی اور وہ دوسروں کو سمجھانا ضروری سمجھیں گے اور جو نا واقفیت اور لاعلمی کی وجہ سے ان پر عمل نہیں کرتے وہ عمل کر کے فائدہ حاصل کریں گے۔میں نے اس وقت جو آیتیں پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے دو ایسے حکم دئے ہیں جو اگر چہ شریعت کے قوانین نہیں ہیں تمدن سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان پر بہت زوردیا گیا ہے کیونکہ ان کا اثر دین پر پڑتا ہے حکم یہ ہیں۔اول یہ کہ جب کسی کے مکان میں داخل ہونے لگو تو داخل ہونے سے پہلے مکان میں رہنے والوں سے اجازت حاصل کر لو۔اگر وہ اجازت دے دیں تو داخل ہو جاؤ۔دوم یہ کہ جب مکان میں وہ