خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 302

خطبات محمود جلد (5) ان سے دُور چلے گئے ہیں۔تمام ہندوستان میں یہ بات نظر آتی ہے کہ مسلمان السلام علیکم کہنے کوعیب سمجھتے ہیں اور بہت ایسے ہیں کہ جن کو اگر السلام علیکم کہہ دیا جائے تو لڑ پڑتے ہیں کہ کیا ہمیں تم دُھنیا یا جولاہ سمجھتے ہو۔گویا ان کے نزدیک السلام علیکم ایک ایسی معیوب بات ہے جو صرف جولا ہوں اور دھنیوں کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے دوسروں کے لئے نہیں۔بعض اسلامی ریاستوں میں تو یہ حکم جاری کر دیا گیا ہے کہ والی ریاست کو السلام علیکم کہنا بہتک سمجھی جائے گی۔اور اگر کسی نے کہا تو اسے سزا دی جائے گی۔ہاں کورنش بجالانا چاہیے۔چنانچہ مکن نہیں کہ جو لوگ ایسے والیانِ ریاست کو ملنے جاتے ہیں اس کے خلاف کر سکیں وہ اسلام علیکم کبھی نہیں کہہ سکتے کہ اس سے ہتک سمجھی جاتی ہے۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسلمان کہاں تک اسلام سے دُور ہو گئے ہیں۔نہ صرف یہ کہ ان میں السلام علیکم کہنے کا رواج اور عمل نہیں رہا بلکہ اس پر عمل کرنا بہتک سمجھا جاتا ہے اور جہاں انہیں اختیار حاصل ہے وہاں اس پر سزا دینے کے لئے تیار ہیں۔پھر اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے السلام علیکم کہہ دے تو کہتے ہیں کہ یہ کیا پتھر کی طرح اُٹھا کر ماردیا۔کیا تم میں اتنی بھی تہذیب نہیں کہ بڑوں کو السلام علیکم کہتے ہو۔” آداب عرض“ کہنا چاہیئے۔اس پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ہم دہلی گئے۔جن کے گھر ہم ٹھہرے ہوئے تھے ان کا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا اس کو میں نے علیحدہ لے جا کر خوب اچھی طرح سکھا دیا کہ السلام علیکم کہا کرو آداب عرض نہ کہا کرو۔ایک دفعہ ہم باہر سے جو گھر آئے تو اس لڑکے نے کہا السلام علیکم۔ہم نے وعلیکم السلام کہا۔تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ ایک کو نہ سے اس بچے کے رونے کی آواز آرہی ہے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اُس کی اتاں اس بچے کو آہستہ آہستہ اس لئے مار رہی ہے کہ تم نے بڑوں کو السلام علیکم کیوں کہا۔ہم نے کہا اس بیچارے کا کوئی قصور نہیں یہ تو ہم نے ہی اسے سکھایا ہے۔تو السلام علیکم کہنا بڑی بہتک سمجھی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ شرفاء کا طریق نہیں ہے حالانکہ اصل میں یہی شرافت ہے۔” آداب عرض“ کے معنی ہی کیا ہوئے ایک فضول اور لغوسا فقرہ ہے لیکن السلام علیکم کہنے میں دُعا کی جاتی ہے۔یہ کہنے والا کہتا تو یہ ہے کہ تجھ پر سلامتی ہولیکن اس فقرہ کا رنگ بدلا ہوا ہے تا کہ آپس میں محبت اور الفت کا اظہار ہو۔اصل میں اس کے یہ معنی ہیں کہ اے اللہ تو اس بندے پر سلامتی نازل کر۔اب دیکھ لو کہ یہ کہنے سے نیک نتائج نکل سکتے ہیں یا آداب اور تسلیمات کہنے سے۔السلام علیکم کہنا تو ایک دعا اور خواہش ہے جو خدا تعالیٰ سے کی جاتی ہے لیکن دوسرے صرف الفاظ ہی الفاظ ہیں معنی کچھ نہیں رکھتے۔اس لئے جو برکت دُعا میں ہے وہ ان میں کہاں ہو سکتی ہے۔مگر باوجوداس کے مسلمانوں نے اسے ترک کر دیا ہے اور آج سے نہیں بلکہ آج سے بہت عرصہ پہلے سے۔مدت ہوئی