خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 298

خطبات محمود جلد (5) ۲۹۸ اُن سے نفع حاصل ہوتا ہے تو ضرر بھی ان میں ضرور ہے اس لئے ان کے پیدا کرنے والے کی طرف تو حجہ کرنی چاہئیے تا کہ ان کے نقصانات سے محفوظ رہیں آرام کے وقت انسان کم ہی نعمت کی قدر کرتا ہے۔جب تک آنکھوں میں نور ہے دوسروں کی عیب چینیاں کرتا اور جب بینائی جاتی رہتی ہے تو پھر پشیمان ہوتا اور افسوس کرتا ہے۔جب تک زبان میں قوت ذائقہ ہے کہتا ہے فلاں چیز کا ذائقہ اچھا نہیں فلاں چیز بدمزہ ہے۔لیکن جب زبان کی وہ قوت ہی جاتی رہتی ہے تو کہتا ہے کاش ! معمولی مزہ ہی زبان میں ہو۔پس ان تمام اشیاء میں جو شرور ہیں ان کو اور جو جو ان میں تکالیف ہیں ان کو دیکھتے ہوئے رب الفلق ہی تمہارا ملجاء و مالوی ہونا چاہیے اور اسی کے حضور پناہ لے کر تم ان مشکلات کے بدنتائج سے بچ سکتے ہو۔تو فرمایا پناہ مانگورب الفلق یعنے خالق اشیاء کے حضور من شر ما خلق جو کچھ بھی اس نے پیدا کیا ہے اُس کے شر سے تا کہ جو ان اشیاء کی بد استعمالی کی وجہ سے بدنتائج پیدا ہونے والے ہوں اُن سے وہ تم کو محفوظ رکھے۔اور پناہ مانگو رب الفلق یعنے روشنی کے پیدا کرنے والے کے حضور۔من شر غاسق اذا وقب تمام اندھیروں کے شرور سے اندھیرے وہ ہیں جو انسان اپنی غفلت کے باعث مختلف نامرادیاں اور ناکامیاں دیکھتا ہے اور شرور سے مراد کھ اور تکلیفیں ہیں۔جب انسان صرف انہی اشیاء سے تعلق لگا کر یہ سب مصائب دیکھتا اور دُکھ اُٹھاتا ہے تو مجبور ہوکر اس کو خدا کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔میرے نزدیک اس سورۃ میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ کی پیشگوئی کی گئی ہے اور یہ وہی وقت ہے جس کا اس میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ آج ہی وہ زمانہ آیا ہے جس میں ہر قسم کے شر اور اندھیرے رونما ہوئے ہیں۔فساد کی کوئی حد نہیں حسد نے دلوں کو کھا لیا ہے۔بغاوت نے راحت و آرام کھو دیا ہے۔ان سب امور کی بدانجا میوں سے بچنے کے لئے جولوگوں کی بد استعمالیوں کی وجہ سے پیدا ہو گئے ہیں صرف یہی صورت ہے کہ تم خدا کی طرف دوڑو۔اور یہ فساد اسی لئے اُٹھے ہیں کہ تا تم اس کی طرف جھکو۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ان نقصانات کو دیکھ کر بے اختیار اس وقت کہہ اُٹھیں گے کہ ہم تیری ہی پناہ میں آتے ہیں۔جس قدر ہم ان اشیاء کی طرف جھکے اسی قدر تجھ سے دُور ہوئے۔اب ان سے نقصان اُٹھا کر پھر تیری طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں تو ہماری دستگیری فرما۔میں سمجھتا ہوں مسلمانوں کے لئے یہ سورۃ بڑی قابل توجہ ہے۔ان کا نور کو چھوڑ کر ظلمت کی طرف جانا پھر آپس میں حسد، بغض اور عداوت ایک دوسرے کے خلاف منصوبے کرنا یہی ہمیشہ ان کی ہلاکت کا باعث ہوئے۔حضرت صاحب بارہا ان کو ان الفاظ سے مخاطب کرتے