خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 272

خطبات محمود جلد (5) ۲۷۲ فرماتا ہے۔قَاتِلُوا في سبيل اللهِ الَّذِينَ يقاتِلُونَكُمْ (البقرۃ: ۱۹۱) کہ اللہ کی راہ میں تمہارا جھگڑا انہیں لوگوں سے ہونا چاہیئے جو تم سے لڑتے ہوں اور وہ جو تمہارے امن کا باعث ہوں تمھیں کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا ئیں بلکہ سکھ کا موجب ہوں۔تمہارے مال و اموال کی حفاظت کریں۔ان سے کسی طرح جنگ نہیں کرنا چاہئیے تو قتال کا حکم انہیں سے ہے جو ہم سے لڑیں اور جولڑائی نہیں کرتے بلکہ آرام و آسائش کا باعث بنتے ہیں اور ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ان سے قتال جائز نہیں۔دیکھو طاعون پڑتی ہے تو یہ گورنمنٹ اس کے دُور کرنے کی کتنی کوشش کرتی ہے یہ اور بات ہے کہ طاعون چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عذاب ہے۔اس لئے اس کے دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی لیکن اس میں شک نہیں کہ گورنمنٹ نے اس کے انسداد کی کم کوشش نہیں کی۔کتنے ہی ڈاکٹر صرف اس کام کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔اسی طرح علوم اور فنون کے پھیلانے میں گورنمنٹ نے خاص کوشش کی ہے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ ایسا کرنا گورنمنٹ کا فرض تھا۔ہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی سلطنت کے آخری زمانہ میں کیا مسلمان بادشاہوں کو ایسے فرائض معاف ہو گئے تھے۔وہ رعایا سے ٹیکس وصول کرتے تھے لیکن رعایا کے لئے کیا کرتے تھے۔اس میں شک نہیں۔ابتدائی بادشاہ رعایا کے آرام و آسائش کا بہت خیال رکھتے تھے۔لیکن بعد میں آنے والوں کی حالت کو دیکھو اور اس زمانہ سے ان کا مقابلہ کرو۔اس وقت ہزاروں قسم کے علوم سکھائے جاتے ہیں۔پھر علم اس قدر مٹ چکا تھا کہ اگر گورنمنٹ چاہتی تو ایک مدرسہ بھی نہ کھولتی۔اور آج لوگ اسی طرح جاہل اور بے علم ہوتے جس طرح ہو چکے تھے۔مسجدوں میں کنز اور قدوری بیٹھے پڑھتے ہوتے۔کسی کو یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ امریکہ بھی کچھ ہے اور یہ کوئی جانتا ہی نہ کہ کوہ قاف کس کو کہتے ہیں اس کی کسی کو خبر ہی نہ ہوتی کہ زمین گول ہے یا چپٹی لیکن گورنمنٹ نے لاکھوں روپے خرچ کر کے جاہلوں کو عالم بنایا تعلیمی مصارف کا اندازہ لگانے کے لئے یہی دیکھ لو کہ ایک دفعہ تاجپوشی کے موقعہ پر پچاس لاکھ روپیہ اس غرض کے لئے دیا گیا۔یہ درست ہے کہ ایسا کرنا گورنمنٹ کا فرض ہے لیکن اپنے فرائض کو سمجھنا اور پھر ادا کرنا بھی ہر ایک کا کام نہیں ہے۔اور جو اپنے فرض پوری طرح ادا کرتا ہے وہ کوئی کم شکریہ کا مستحق نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر ایک داروغہ مال کو دیانتداری کے ساتھ تقسیم کرتا ہے تو وہ بھی اتنے ہی ثواب کا مستحق ہوتا