خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 264

خطبات محمود جلد (5) ۲۶۴ لکھا ہے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ کی جنگ کے وقت ایک عیسائی سلطنت نے حضرت علی پر حملہ کرنا چاہا۔اس کو حملہ کرنے کا خیال پید اہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کو کمزور سمجھا۔ورنہ پہلے کی نسبت نہ اس کی طاقت بڑھ گئی تھی نہ اس کے پاس سامان زیادہ ہو گیا تھا اور نہ ہی مسلمانوں کی سلطنت چھوٹی رہ گئی تھی۔لیکن جب اس نے دیکھا کہ مسلمانوں کو نا اتفاقی کا گھن کھا رہا ہے تو اس نے حملہ کرنے کا ارادہ کر دیا۔مگر در اصل وہ گھن اسی قسم کا تھا جو چھلکے کے اوپر ہی او پر ہوتا ہے نہ کہ اندر۔اس لئے جب اس نے حملہ کا ارادہ کیا۔اور اپنے مشیروں سے مشورہ لیا۔تو ایک نے کہا کہ آپ سمجھتے نہیں۔یہ مسلمانوں کی حقیقی کمزوری کی علامت نہیں۔اگر آپ ان پر حملہ آور ہوں گے تو ضرور شکست کھائیں گے۔چنانچہ جب امیر معاویہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اسے کہلا بھیجا کہ ہم جو آپس میں لڑ رہے ہیں تو یہ شرعی مسائل کے متعلق لڑتے ہیں تم اس سے یہ نہ سمجھنا کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔اگر تم نے علی پر حملہ کیا تو ان سے صلح کر کے سب سے پہلے جو تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا۔اس کے بعد وہ عیسائی بادشاہ حملہ کرنے سے رُک گیا کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں کو گھن نہیں لگا ہوا۔لیکن اس کی حملہ کرنے کی خیالی جرات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے سمجھا کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیں اور آپس میں جنگ و جدال کر رہے ہیں۔تو دشمن جب کمزوری کی علامت دیکھتا ہے تو حملہ آور ہونے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔پھر وہ حملہ کرنے سے رُکا تو اس لئے نہیں کہ اس کی وہ فوج جس کے بھروسے پر اس نے حملہ کرنے کا خیال کیا تھا۔وہ بھاگ گئی تھی۔یا مری کے پڑنے سے ہلاک ہو گئی تھی۔یا سامانِ حرب تباہ ہو گیا تھا۔بلکہ اس لئے کہ اس نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں میں گھن نہیں ہے تو جو قوم بیرونی دشمنوں کے حملوں سے ہلاک ہوا کرتی ہے وہ وہی ہوتی ہے جس کے اندر کمزوری اور نا طاقتی کی علامات پائی جاتی ہیں۔انہیں کو دیکھ کر دشمن سمجھ لیتے ہیں کہ یہ قوم آج بھی مٹی اور کل بھی مٹی۔مگر اس خیال سے کہ اگر خود بخود مٹی تو اس کے کھنڈرات سے کوئی اور قوم نکل آئے گی جو اس کی مجمع بحارالانوارجلد ا ص ۲۶ زیر لفظ ارس