خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 229

خطبات محمود جلد (5) ۲۲۹ اور جوش کی وجہ سے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ تو ہمارے رسول کی ایک پیشگوئی تھی جو سچی ہو رہی ہے۔دیکھئے۔منافقوں کو جو چیز موت نظر آرہی تھی۔وہی ان کے لئے ایک عظیم الشان فتح اور کامیابی تھی۔دشمن اگر چہ اس لئے آیا تھا کہ اسلام کو قطعہ عرب سے اکھاڑ کر پھینک دے۔مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کے آنے کے ساتھ ہی اسلام نہایت مضبوطی سے گڑ جائے گا۔کیونکہ مسلمانوں نے اس کو دیکھ کر کہہ دیا کہ خدا کی شان رسول کریم نے اتنی مدت پہلے جو بات بتائی تھی اور جس طرح بتائی تھی اُسی طرح آج پوری ہو رہی ہے اور چونکہ آپ نے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ دشمن شکست کھا کر نا کام اور نا مراد بھاگ بھی جائے گا۔اس لئے بہت جلدی وہ بات بھی پوری ہونے والی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔مَازَادَهُمْ إِلَّا ايْمَانًا و تسليما۔صرف یہی نہیں ہوا کہ مسلمان کفار کے اتنے بڑے لشکر سے ڈرے نہیں اور جرات اور دلیری سے مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔بلکہ وہ اس سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئے کہ ان کے ایمان اور فرمانبرداری میں اور زیادتی ہوگئی۔بجائے اس کے کہ ایسے خطرناک موقعہ پر وہ ڈگمگاتے اور فرمانبرداری کو چھوڑتے اسی پر قائم نہ رہے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ آگے بڑھ گئے اور پہلے کی نسبت بہت زیادہ فرمانبردار ہو گئے۔یہی رنگ ہر ایک مومن کو ہمیشہ دکھانا چاہئیے۔مومنوں پر کوئی مصیبت ایسی نہیں آتی کہ جس کی خبر پہلے سے انہیں نہیں کر دی جاتی۔تمام وہ ابتلاء اور مصائب جو جماعتوں کے لئے آتے ہیں۔ان کی نسبت اللہ تعالیٰ پہلے سے ہی کسی نہ کسی رنگ میں اطلاع دے دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بڑے بڑے ابتلاء آئے اور کئی ایک رنگوں میں آئے اور سب سے بڑا وہ ابتلاء تھا کہ جس سے جماعت میں تفرقہ پڑ گیا۔اور دوگروہ ہو گئے۔پھر اب وہ ابتلاء ہے جو مالی رنگ میں رہتا ہے۔اور ایک مدت سے چلا آ رہا ہے۔اس زمانہ میں یہ بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔کئی لوگ ہیں جو اس سے گھبرا جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ ہمت اور کوشش سے اس کا مقابلہ کریں۔یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں بڑے چندے دینے پڑتے ہیں اس گھبراہٹ اور بزدلی میں پہلے جو چندہ دیتے ہیں وہ بھی دینا چھوڑ دیتے ہیں۔حالانکہ ایک مومن کے لئے یہ ابتلاء ایک طرح خوشی کا موجب ہیں کیونکہ جب وہ دیکھتا ہے کہ آج سے کئی سال پہلے حضرت