خطبات محمود (جلد 5) — Page 215
خطبات محمود جلد (5) ۲۱۵ پھر رحیمیت کو بیان کیا ہے اس سے انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ یہ ہمارا نمونہ ہے ہم نے کچھ احسانات بغیر تمہارے کہنے اور کچھ کرنے کے تم پر کئے ہیں تم ان پر غور اور تدبر کرو۔اور دیکھو کہ تمھیں ان سے کتنا نفع اور آرام پہنچ رہا ہے۔ان کے حاصل کرنے کے لئے نہ تم نے کوشش کی ہے نہ محنت کی ہے نہ تدبیر کی ہے محض ہمارے فضل سے تمہیں ملے ہیں پس جب بغیر تمہاری کسی محنت۔کوشش تدبیر اور بغیر کسی عمل کے ہم نے یہ انعامات دیئے ہیں۔تو اب اگر تم ہمارے احکامات کے ماتحت کچھ کام کرو گے تو سمجھ لو کہ کتنے بڑے انعام حاصل کر لو گے اور رحیمیت کی صفت تمہیں کیا کچھ نہ دکھائے گی۔تو رحمانیت کی صفت نمونہ ہے۔جو انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچنے کے لئے ظاہر ہوتا ہے۔کیونکہ جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر غور کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ جب میں نے کچھ نہیں کیا۔تو خدا تعالیٰ نے مجھے آنکھیں۔ناک۔کان۔عقل۔دولت۔عزت وغیرہ دی ہے تو جب میں کچھ کروں گا اور خدا تعالیٰ کے حکم مانوں گا۔پھر وہ کیا کچھ نہ دے گا۔جس طرح ایک دوائی کا نمونہ استعمال کرنے والا کہتا ہے کہ مجھے اس تھوڑی سی دوائی نے اس قدر فائدہ دیا ہے اگر میں زیادہ استعمال کروں گا تو زیادہ فائدہ ہوگا۔اس لئے وہ روپیہ خرچ کر کے اور منگواتا ہے۔جو پہلے سے زیادہ آ جاتی ہے اسی طرح رحمانیت کی صفت خدا تعالیٰ کی طرف کھینچتی ہے۔اور بتاتی ہے کہ جب رحمانیت کے ماتحت تجھ پر اس قدر فضل نازل ہو اتو جب رحیمیت کے نیچے آجائے گا تو اس وقت کتنا فضل ہوگا۔کیونکہ اس وقت تو فضل حاصل کرنے کا تیرا استحقاق پیدا ہو جائے گا۔گوکسی انسان کا خدا تعالیٰ پر کوئی حق نہیں ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے خود مقرر کر دیا ہے اور وہ وعدوں کا سچا ہے۔پس بلا استحقاق کے جب اس قدر فضل ہوتے ہیں تو جب استحقاق ہو جائے اس وقت تو بہت زیادہ ہوں گے جس طرح دوائی دینے والا جب مفت دوائی دیتا ہے تو قیمت لے کر کیوں نہ دے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب بغیر کام کے دیتا ہے۔تو عمل۔محنت اور کوشش کرنے سے کیوں نہ دے گا۔تو رحمانیت نمونہ ہے رحیمیت کا۔اس سے خدا تعالیٰ کی شان کا علم ہوتا ہے۔اور جتنا جتنا کوئی اس صفت کے نیچے آئے اتنا ہی زیادہ انعام پاتا ہے۔رحیمیت کے انعام خاص شان اور درجہ رکھتے ہیں۔رحمانیت کے ماتحت تو