خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 12

خطبات محمود جلد (5) ۱۲ یعنی مشرک سے ایک درجہ آگے ہوتا ہے۔پھر ایسے لوگ جو الہام کے قائل نہیں ہوتے وہ فرشتوں کو بھی نہیں مانتے کیونکہ الہام فرشتہ کے ہی ذریعہ ہوتا ہے۔پس جو قوم نبیوں کو بھی مانتی ہے اور فرشتوں کو بھی مانتی ہے۔ضرور ہے اس کے مقابلہ میں ایک ایسی قوم جو نہ نبیوں کو مانتی ہے اور نہ فرشتوں کو کم درجہ رکھتی ہو اور پہلی میں دوسری کی نسبت ایمان کی زیادتی ہو۔چونکہ خدا تعالیٰ کسی کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔بلکہ جس قدر کسی کا زیادہ ایمان ہوتا ہے اسی قدر سے زیادہ فائدہ پہنچا تا ہے۔اس لئے اہل کتاب کو جن میں مشرکین سے زیادہ ایمان ہے اسی دنیا میں مسلمانوں کے زیادہ قریب رکھ دیا۔کیونکہ غیر اہل کتاب یعنی مشرکین میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے قائل نہیں ہوں گے اور اگر خدا تعالیٰ کے قائل ہونگے تو الہام کے نہیں ہوں گے اور جب الہام کے قائل نہیں ہوں گے تو انبیاء اور ملائکہ کے بھی نہیں ہوں گے۔لیکن جو اہل کتاب ہیں خواہ کسی کتاب کے ماننے والے ہیں۔وہ خدا۔نبیوں اور اکثر حصہ فرشتوں کے بھی ضرور قائل ہوں گے۔بعض ایسے بھی ہیں جو فرشتوں کو نہیں مانتے لیکن بہت کم۔تو اہل کتاب میں چونکہ مشرکین کی نسبت ایمان کے تین جزو زیادہ ہیں یعنی وہ (۱) نبیوں (۲) کتاب پر اور (۳) ملائکہ پر ایمان لاتے ہیں اس وجہ سے ان کے ساتھ سلوک میں زیادتی رکھی گئی ہے۔ان کی لڑکیوں کا نکاح میں لینا اس لئے جائز رکھا گیا ہے تا کہ اس طرح ان کے ساتھ مودت اور پیار بڑھے کیونکہ جس کی لڑکی کسی کے ہاں آئے گی ضرور ہے کہ اس کے تعلقات بھی اس سے بڑھیں اس سلوک کے ذریعہ اہل کتاب کے ساتھ خدا تعالیٰ نے تمدنی اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط کیا ہے اسی طرح کھانا کھانا ہے۔جب کوئی کسی کے ہاں کھانا کھائے گا تو ضرور ہے کہ ان کی آپس میں محبت اور الفت بڑھے اور ان کے دنیاوی تعلقات مضبوط ہوں۔پس ایک وجہ تو اہل کتاب کے ساتھ خصوصیت سے سلوک کرنے کی یہ ہے اور دوسری یہ ہے کہ وہ انسان جو خدا تعالیٰ کا تو قائل ہے لیکن کسی بات کو نہیں مانتا۔اس کے اعمال کی کوئی حد بندی نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ کہتا ہے کہ سب کام اپنی عقل کے مطابق کرنے چاہئیں اگر اس کی عقل میں چوری کرنا نا جائز ہے تو نا جائز ہے لیکن اگر اس کی عقل اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتی ہے تو اس کے لئے جائز ہے۔کیونکہ وہ آپ ہی خدا ہوتا ہے اور آپ ہی اچھی بری چیز کا