خطبات محمود (جلد 5) — Page 198
خطبات محمود جلد (5) ۱۹۸ یہ بندے اور خدا میں تعلق پیدا ہونے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اس سے دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے۔ایک یہ بھی طریق ہے کہ جب انسان دعا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کو اپنی آنکھوں کے سامنے لے آئے۔کیونکہ انسان کو خواہش اور امید کام کروایا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعامات کو دیکھنے کے لئے سر سے لے کر پاؤں تک خوب غور کرے اور دیکھے کہ اگر میری فلاں چیز نہ ہوتی تو مجھے کس قدر تکلیف اور نقصان ہوتا۔مثلاً اس طرح نقشہ کھینچے کہ اگر میرے ہاتھ نہ ہوتے اور کوئی دوست مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا تو میں کیا کرتا۔یا پیاس لگی ہوتی تو پانی کس طرح پی سکتا۔پیشاب کرنا ہوتا۔تو ازار بند کس طرح کھولتا۔اور پھر باندھ سکتا۔غرضکہ اسی طرح ہر ایک چیز کو دیکھے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے انعام اور فضل کا ایسا نقشہ کھینچے کہ اس کا رُو آں رُوآں خدا کی محبت اور الفت سے پر ہو جائے۔اس وقت اس کے دل پر جوش اور شوق سے امید ایک ایسی لہر مارے گی کہ وہ جو دعا کرے گا وہ قبول ہو جائے گی۔کیونکہ جب وہ دیکھے گا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بغیر مانگے اور سوال کئے اس قدر انعامات دے رکھے ہیں تو مانگنے سے کیوں نہ دے گا۔جب اس کو یہ یقین حاصل ہو جائے گا تو جو مانگے گا وہ مل جائیگا۔ایک طریق یہ بھی ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کے انعامات کو نظر کے سامنے لانا چاہئیے۔اسی طرح اس کے غضب کو سامنے لایا جائے۔اور جس طرح یہ سوچا تھا کہ اگر میرا فلاں عضو نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔اسی طرح یہ سوچے کہ یہ انعام جو مجھے دیئے گئے ہیں یہ چھین لئے جائیں۔تو پھر کیا ہو؟ اور یہ بھی دیکھے کہ بہت سے لوگ تھے جن پر میری طرح ہی خدا تعالیٰ کے انعام تھے مگر ان سے چھین لئے گئے اس بات کے لئے تباہ شدہ گھر اور ہلاک شدہ بستیاں یا اپنے جسم کا ہی کوئی تباہ شدہ حصہ کا فی سبق دے سکتا ہے۔وہ اسے دیکھے اور پھر دعا کرے یہ دعا خوف اور طمع کی دعا ہو گی۔جس کو قرآن کریم نے بھی بیان کیا ہے۔ایک طرف اس کے خوف ہوگا اور دوسری طرف طمع۔یہ دو دیوار میں ہوں گی۔جو اسے دنیا سے کاٹ کر اللہ کی طرف مائل کر دیں گی۔اور اس طرح اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔پھر جب کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اپنی حالت کو چست بنائے۔کیونکہ