خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 193

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۳ شان رکھنے والے ہیں۔ان میں میں نے حضرت مسیح موعود کو بھی شامل کر لیا ہے حضرت مسیح موعود اپنے موجودہ درجہ میں ہوں یا اس سے بھی بڑے درجہ میں تو بھی آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور غلام ہی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ آپ کا قرب اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے طفیل ہے۔اور آپ ہی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ حقیقی محبت استثناء کرتی ہے۔یعنی جس سے تعلق ہو اس کو دوسروں سے بڑھ کر دکھاتی ہے۔مگر ہم کو جس انسان سے اس زمانہ میں نو ر ملا ہے ہم اس کو مستثنیٰ نہیں کرتے۔اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ سب انسانوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اعلیٰ اور ارفع ہے اور آپ ایک ایسے مقام پر ہیں کہ گویا سب سے علیحدہ ہو کر ایک اکیلے نظر آجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کے ساتھ آپ کا نام بھی رکھ دیا ہے۔ایسے انسان کی نسبت جو درود بھیج کر خدا تعالیٰ سے برکات چاہے خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آکر اس پر فضل کرنا شروع کر دیتی ہے۔یہ بات احادیث سے ثابت ہے۔( وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہ نہیں بیان کر سکتا کہ جوطریق میں بیان کر رہا ہوں ان کو میں نے کس آیت اور کس حدیث سے استدلال کیا ہے۔مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ یہ سب باتیں قرآن کریم اور احادیث سے لی گئی ہیں ) تو دعا کے قبول ہونے کے ساتھ درود کا بڑا تعلق ہے۔وہ انسان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر دعا کرتا ہے اس کی ہر ایک ایسے انسان سے بڑھ کر دعا قبول ہوتی ہے جو بغیر درود کے کرے۔انعام دینے کا یہ بھی ایک طریق اور رنگ ہوتا ہے کہ اپنے پیارے اور محبوب کی وساطت اور وسیلہ سے دیا جائے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انعامات کا وارث کرنے اور سب سے بڑا رتبہ عطا کرنے کے لئے اس طریق سے بھی کام لیا ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر دعا مانگیں گے ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔دنیا میں کونسا انسان ہے جسے خدا تعالیٰ کی ضرورت نہیں۔ہر ایک کو ہے۔اس لئے ہر ایک ہی اپنی مصیبت کے دور ہونے اور حاجت کے پورا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرے گا۔اور جب ترمذی ابواب السفر باب الثناء على الله والصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلّم