خطبات محمود (جلد 5) — Page 175
خطبات محمود جلد (5) ۱۷۵ اور خدا اوروں کی نسبت اس کی دعا ئیں زیادہ قبول کرتا ہے۔جیسے گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام ہوتے ہیں ان کی باتیں دوسروں کی نسبت بہت زیادہ مانی جاتی ہیں مگر یہ نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ ان کی سب کی سب باتیں مان لے۔تو یہ ایک باطل عقیدہ ہے جو پھیلا ہوا ہے کہ خدا کو سب دعائیں قبول کر لینی چاہئیں۔پچھلے جمعہ کے خطبہ میں جو میں نے یہ کہا تھا کہ ایسے طریق بتاؤں گا۔جن سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اس سے شاید کسی کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ اگلے جمعہ میں کوئی ایسی ترکیب بتا دی جائے گی جس سے جو چاہیں گے خدا تعالیٰ سے منوا لیں گے اور اب یہ سنکر کہ خدا تعالیٰ ہر ایک دعا قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں ہے اور نہ ہی کسی عقلمند کو یہ خیال کرنا چاہیئے کہ اسکی تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی۔کوئی کہہ دے کہ پہاڑ کھودنے سے چوہاہی نکلا ہے۔یعنی جب کسی بڑی چیز کی امید ہو اور بہت چھوٹی چیز حاصل ہو تو یہی کہا جاتا ہے۔پس اگر کسی نے یہ خیال کیا تھا کہ اگلے خطبہ جمعہ میں کوئی ایسا طریق بتا دیا جائے گا۔جس سے جو بات چاہیں گے خدا سے قبول کروالیں گے تو وہ اپنے دل سے اس کو نکال دے کیونکہ یہ کفر ہے اور یہ بات نہ میرے ذہن میں آئی اور نہ ہی کسی ایسے انسان کے ذہن میں آسکتی ہے جو خدا تعالیٰ کی عظمت۔جلال اور قدرت سے واقف ہے۔میرا مدعا تو یہ تھا کہ ایسا طریق بتایا جائے جس سے نسبتا خدا تعالی زیادہ دعائیں قبول فرما لے۔یہ ہرگز نہیں تھا کہ میں کوئی ایسا گر جانتا ہوں یا بتا سکتا ہوں یا یہ کہ میرا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے انسان جو چاہے منوا سکتا ہے۔چاہےمنواسکتا۔پس میں پہلے اس بات کو صاف کرنا چاہتا ہوں کہ میں قطعا کوئی ایسا گر نہیں جانتا کہ جس سے آقا خادم اور خادم آقا بن جائے۔خالق مخلوق ہو جائے اور مخلوق خالق۔مالک غلام قرار پا جائے اور غلام مالک۔کیونکہ آقا۔آقا ہی ہے اور غلام غلام۔خدا تعالیٰ ازل سے آقا ہے۔خالق ہے۔مالک ہے۔رازق ہے۔اور ہمیشہ اسی طرح رہا ہے اسی طرح رہے گا۔انسان ہمیشہ سے خادم مخلوق اور مملوک رہا ہے اور اس کی یہی حالت ہمیشہ رہے گی۔حتی کہ جنت میں جب اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج پر ہوگا تو بھی یہی حالت ہوگی۔تو اس قسم کا خیال کفر ہے۔اور میں ہرگز ہرگز اس کا قائل نہیں۔ہاں ایسے رنگ اور طریق ضرور ہیں کہ