خطبات محمود (جلد 5) — Page 174
خطبات محمود جلد (5) ۱۷۴ میر آقامیری ہر بات کو ضرور ہی مان لے گا تو ایک انسان کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ اس کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کو قبول کر لینی چاہئیے۔اگر کوئی خادم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی ہر ایک بات اس کا آقا مان لیتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔خادم کو ہمیشہ خدمت کے مقام پر کھڑا رہنا چاہیئے۔اور اپنے رویہ طریق اور خیالات کو اسی حد میں محدود رکھنا چاہیئے۔جو اس کی خادمیت کے مناسب ہے۔نہ کہ آقابنا چاہئیے۔پس کسی کا یہ امید کرنا یا ایسا خیال کرنا کہ اگر میری تمام دعا ئیں خدا قبول کرے اور کسی کو رڈ نہ کرے تب خدا خدا ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔اس طرح کی بات ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ انسان خدا ہے اور خدا اس کا بندہ۔یہ آتا ہے اور وہ خادم۔یہ مالک ہے اور وہ غلام۔کیونکہ جو کسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہوتا ہے وہ بندہ۔اور غلام ہوتا ہے نہ کہ منوانے والا خادم اور غلام۔تو یہ امید کرنا ہی باطل ہے کہ میری تمام کی تمام دعائیں قبول ہو جانی چاہئیں یہ خیال کوئی جاہل سے جاہل اور نادان سے نادان انسان کرے تو کرے ورنہ دا نا نہیں کر سکتا۔گو آج کل کے مسلمانوں میں سے بعض اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔بعض لوگ جو مجھے دعا کے لئے لکھتے ہیں انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ انشاء اللہ دعا کی جائے گی۔مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ابھی تک وہ کام نہیں ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دعا نہیں کی۔اب آپ ضرور دعا کریں۔ہم لکھتے ہیں ہمارا کام دعا کرنا ہے۔وہ کرتے ہیں آگے کام کرنا خدا کے اختیار میں ہے اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ آپ نے یہ کیا لکھ دیا۔آپ تو جو چاہیں خدا سے منوا سکتے ہیں۔پس ہمارا یہ کام بھی کروا دیجئے۔تو اس قسم کے خیالات ہیں آجکل کے مسلمانوں کے جو اس جہالت کا نتیجہ ہیں جو ان میں پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے کسی کے بزرگ ہونے کے یہ معنی سمجھ رکھے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ خدا سے بھی بزرگ ہے جو چاہے کروا سکتا ہے۔حالانکہ بزرگ کے اصل معنی یہ ہیں کہ وہ لوگوں میں سے بزرگ ہے جیسے کہتے ہیں کہ باپ کا بزرگ بیٹا۔یعنی سب سے بڑا بیٹا۔اس کے یہ معنی نہیں ہوا کرتے کہ وہ اپنے باپ سے بھی بزرگ ہے۔بلکہ یہ کہ دوسرے بھائیوں سے بزرگ ہے اسی طرح خدا کے بزرگ کے یہی معنے ہیں کہ اس کی مخلوق سے بزرگ ہے