خطبات محمود (جلد 5) — Page 162
خطبات محمود جلد (5) ۱۶۲ رمضان کا مہینہ ہے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس کو خدا تعالیٰ نے روزوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کا روزوں سے ضرور بہت بڑا تعلق ہے۔اس کے روزوں کے ساتھ بیان کرنے کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح ایک مظلوم کی ساری توجہ محدود ہو کر ایک ہی طرف یعنی صرف خدا ہی کی طرف لگ جاتی ہے اسی طرح ماہ رمضان میں مسلمانوں کی توجہ خدا کی طرف ہو جاتی ہے اور قاعدہ ہے کہ جب کوئی بہت سی چیز محدود ہو جائے تو اس کا زور بہت بڑھ جاتا ہے چنانچہ جہاں دریا کا پاٹ تنگ ہوتا ہے وہاں پانی بڑے زور سے چلتا ہے اور جہاں چوڑا ہوتا ہے۔وہاں ایسا زور نہیں ہوتا۔کشمیر کے راستہ میں جہلم کا دریا پڑتا ہے۔میں نے دیکھا ہے جہاں پہاڑوں سے تنگ ہو کر گزرتا ہے وہاں اگر اس میں بڑی بڑی لکڑیاں ڈال دی جائیں تو بھی ان کو چور چور کر دیتا ہے لیکن وہی دریا جب نیچے آکر چوڑا ہو جاتا ہے تو لوگ اس میں تیرتے اور کشتیاں چلاتے ہیں۔تو جو چیز پھیلی ہوئی ہو۔اس کا زور کم ہوتا ہے اور جو محدود ہو اس کا زیادہ۔جب کسی انسان کی دعا ایسی حالت میں ہوتی ہے کہ اس کی نظر بہت سی طرفوں میں جاسکتی ہے۔یعنی کبھی وہ سمجھتا ہے کہ فلاں اسباب سے کامیاب ہو جاؤں گا کبھی فلاں سے۔کبھی کسی ذریعہ کو کامیابی کی راہ سمجھتا ہے کبھی کسی کو۔ایسی حالت میں اس کی دعا ایک وسیع میدان میں سے گذرتی ہوئی جاتی ہے۔مگر جو شخص مظلوم ہوتا ہے اس کی دعا محدود ہو جاتی ہے۔دعا۔خواہش۔آرزو اور التجا۔ان چاروں چیزوں کا ایک بڑا سمندر ہے جس میں پھیل کر انسان کی دعا کمزور ہو جاتی ہے مگر مظلوم کے لئے یہ سارے دروازے بند ہوتے ہیں اور صرف خدا ہی کی طرف کا دروازہ کھلا ہوتا ہے اس لئے اس کی دعا میں ایسا زور پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے اور اس کے راستہ میں جو چیز روک بنتی ہے اسے اکھاڑ کر دور پھینک دیتی ہے تو ایک مظلوم کے لئے وہ سامان مہیا ہو جاتے ہیں جو دعا کے قبول ہونے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اگر اس وقت سے وہ فائدہ اٹھائے تو اس کے لئے بڑے نیک نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح رمضان کے مہینہ میں وہ اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو دعا کی قبولیت کا باعث ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ اس مہینہ