خطبات محمود (جلد 5) — Page 129
خطبات محمود جلد (5) ۱۲۹ میں بھی اسے وہ سچا سمجھتے ہوں مگر اس کی طرفداری کا باعث اس کی سچائی اور راستی نہ ہو بلکہ کوئی اپنی غرض ہو وہ جھوٹ سے کام لینے سے پر ہیز نہیں کرتے میرے اس بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے۔ایک شخص راستی کو راستی سمجھتا ہو مگر اس کی تائید اس لئے نہ کرتا ہو کہ اس کو سچا سمجھتا ہے بلکہ اس کی کوئی اور غرض ہو۔ایسا انسان بھی جھوٹ سے کام لے لیتا ہے۔مثلاً ایک شخص ہے، وہ ایک نبی کو نبی اور خدا کا برگزیدہ بھی مانتا ہے مگر وہ جو اس کی خدمت اور ادب کرتا ہے اس لئے نہیں کرتا کہ وہ نبی ہے بلکہ اس سے اسے اپنا کوئی اور فائدہ مدنظر ہے۔ایسا انسان بھی جھوٹ کا مرتکب ہوسکتا ہے۔کیونکہ وہ ذاتی نفع کے لئے نبی کی خدمت کر رہا ہوتا ہے نہ کہ اس کے نبی ہونے کی وجہ سے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ایک نظیر اس بات کے ثبوت کے لئے موجود ہے۔جنگ خیبر میں ایک شخص مسلمانوں کے ساتھ ہو کر اس زور اور کوشش سے لڑا کہ صحابہ کہتے ہیں ہمیں اس پر رشک آ گیا۔لیکن لڑائی ہونے سے پہلے ابتدائے لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر کسی نے دوزخی آدمی دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لے۔صحابہ کہتے ہیں ہم نے یہ بات سنی ہوئی تھی مگر وہ اس دلیری اور جوانمردی سے لڑا کہ خطرناک سے خطرناک مقام پر پہنچ کر حملہ آور ہوتا۔اور ہر دفعہ ایک دو کو گرا ہی آتا۔حتی کہ صحابہ ایسے مضبوط ایمان والوں میں سے بعض کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا۔کہ رسول اللہ نے ناحق اس کی نسبت کہہ دیا ہے کہ یہ دوزخی ہے۔لیکن ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں اس کے پیچھے پیچھے ہولیا۔جہاں وہ حملہ کرتا وہیں میں بھی پہنچ جاتا۔حتی کہ وہ سخت زخمی ہوا۔بعض صحابہ جاتے اور اسے جا کر کہتے تجھے جنت کی خوشخبری ہو مگر وہ آگے سے جواب دیتا۔مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ دوزخ کی دو۔کیونکہ میں اسلام کے لئے نہیں لڑا۔مجھے ان لوگوں سے ایک پرانی عداوت تھی اس کی خاطر لڑا ہوں۔اس واقعہ سے دونوں باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ایک یہ کہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان تھا اور آپ کو خدا کا نبی اور برگزیدہ سمجھتا تھا تبھی تو اس نے کہا کہ مجھے جنت کی بشارت نہ دو۔بلکہ دوزخ کی دو۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اسلام کے لئے لڑنے والا جنت میں جاتا ہے نہ کہ اپنی اغراض کی خاطر لڑ نیوالا