خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 122

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۲ بلا استثنا کسی ایک کے نبیوں سے لیکر ادنی انسانوں تک کا یہ حال ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ بات جو ہر جگہ پائی جاتی ہے جب تک جھوٹ ثابت نہ ہو جائے وہ نہ کہیں۔لیکن جب کہیں جھگڑا ہوتا ہے ہر فریق یہ خیال نہیں کرتا کہ شائد فلاں سے غلطی ہو گئی ہو۔یا وہ بھول گیا ہو۔بلکہ یہی کہتا جاتا ہے کہ اس نے شرارت کی ہے بے ایمانی دکھائی ہے۔دشمنی شروع کی ہے۔اور جھوٹ بولا ہے پھر دونوں دعائیں کرتے ہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت پڑے۔ممکن ہے کہ کسی پر بھی لعنت نہ پڑے اور دونوں میں سے کوئی بھی جھوٹ نہ بولتا ہو۔جھوٹ تو وہ ہوتا ہے جو ایک بات کو اچھی طرح جانتے ہوئے اس کے خلاف کہا جائے لیکن جس کو ایک بات جس طرح یاد ہے اسی طرح بیان کرتا ہے تو وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا ہاں ممکن ہے کہ نسیان کی وجہ سے اسے اسی طرح وہ بات یادر ہی ہو جو اصل کے خلاف ہو۔آپس کے جھگڑے اور اختلاف تو ہر جگہ ہی ہوا کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ دوسرے کو جھٹ جھوٹا شریر اور فسادی قرار دے دیا جائے۔جھگڑے تو صحابہ میں بھی ہوا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکر کا جھگڑا تو حدیثوں سے ثابت ہے یہ اگر جھگڑے کے یہ معنے ہیں کہ جھگڑنے والا جھوٹا ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ ان دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔پھر حضرت عباس اور حضرت علی کا جھگڑا بھی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے ان میں سے بھی ایک جھوٹا قرار دینا پڑے گا۔پھر حضرت عمر اور عمار کا جھگڑا ثابت ہے۔عمر اور ابن مسعود کا اختلاف ثابت ہے اس لحاظ سے ان میں سے بھی ایک کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے قاضی مقرر تھے۔وہ بھی مقدمات کے فیصلے کے لئے ہی تھے۔اگر مقدمات نہ ہوتے تو قاضیوں کے مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اس طرح ماننا پڑے گا کہ صحابہ میں سے نصف نہ سہی تہائی تو ضرور جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔مگر ہمارا تو یقین اور کامل یقین ہے کہ صحابہ میں سے ایک بھی جھوٹ بولنے والا نہ تھا۔صرف نسیان تھا۔جس سے کوئی انسان خالی نہیں اور نہ ہوسکتا ہے اسی وجہ سے ایک شخص کو ایک بات ایک طرح یاد ہوتی تو دوسرے کو دوسری طرح۔ایسی اختلافی باتوں کا فیصلہ ا بخاری کتاب فضائل النبی باب مناقب المهاجرين