خطبات محمود (جلد 5) — Page 3
خطبات محمود جلد (5) وہ جو مال کو جمع کرتے رہتے ہیں۔جمع کرنے سے ہی بخل کے معنے لئے گئے۔کیونکہ انسان مال جمع تبھی کر سکتا ہے جب خرچ نہ کرے اور اسی کو بخیل کہتے ہیں پس قائد کے اصل معنے یہ ہیں کہ جو مال جمع کرے اور ان لوگوں پر خرچ نہ کرے۔جن پر خرچ کرنا اس کے ذمہ ہے۔اس آیت میں خرچ نہ کرنے والے کی نسبت خدا تعالیٰ نے کیا عجیب لفظ رکھا ہے یہ نہیں فرمایا کہ وہ جو اپنے رشتہ داروں اور محتاجوں وغیرہ پر خرچ نہیں کرتا۔وہ بُرا ہے کیونکہ جس کے پاس مال نہ ہو۔وہ بھی تو خرچ نہیں کرتا۔پھر کیا وہ خدا کے بندوں سے نکل جائے گا۔مثلاً ایک شخص خود بھوکا ہے اس سے کوئی محتاج آکر مانگتا ہے کہ مجھے کھانے کو دو لیکن وہ کچھ نہیں دیتا۔تو کیا ایسا آدمی بھی خدا کے حضور بخیل ٹھہرایا جا سکتا ہے۔نہیں۔ہاں ایک ایسا شخص جس کے پاس دینے کے لئے ہے مگر نہیں دیتا۔وہ بے شک اللہ تعالی کے نزدیک ملزم ہے تو یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ عبد الرحمن نہیں ہوتا جو خرچ نہیں کرتا۔بلکہ قتر کا لفظ رکھا جس کے معنے ہیں مال جمع کرنے کے۔اور قاتر اس کو کہتے ہیں جو مال جمع کرے اور رشتہ داروں مسکینوں اور محتاجوں پر خرچ نہ کرے۔پس اس ایک ہی لفظ میں یہ بھی بتا دیا۔کہ جس کے پاس مال نہ ہو۔اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اعتراض صرف اس پر ہے جس کے پاس مال ہے اور وہ بجائے حاجت مندوں پر خرچ کرنے کے اسے جوڑتا ہے۔اسی طرح اس لفظ کے ذریعہ سے یہ بھی بتا دیا کہ خالی مال جوڑنا منع نہیں بلکہ اگر کسی شخص کے پاس اس قدر مال ہو کہ وہ ان لوگوں پر خرچ کرنے کے بعد جن کا خرچ اس کے ذمہ ہے اور غرباء کی مدد کرنے کے بعد بھی مالدار ہے تو اس کا مال جمع کرنا گناہ نہیں۔خیر اس جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی عبد الرحمن بننا چاہے تو اس کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے وقت دو باتوں کا لحاظ کرے۔اوّل یہ کہ وہ اپنے مال میں اسراف نہ کرے۔اس کا کھانا صرف تکلف اور مزے کے لئے نہیں ہوتا۔بلکہ قوت طاقت اور بدن کو قائم رکھنے کے لئے ہوتا ہے اس کا پہنا آرائش کے لئے نہیں ہوتا بلکہ بدن کو ڈھانکنے اور خدا تعالیٰ نے جو اسے حیثیت دی ہوتی ہے اس کے محفوظ رکھنے کے لئے ہوتا ہے۔چنانچہ صحابہ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ اسی طرح کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر ایک دفعہ شام کو تشریف لے گئے تو وہاں بعض صحابہ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔( ریشمی کپڑوں سے مراد