خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 106

خطبات محمود جلد (5) ١٠٦ ہوتا۔کڑھنا ہوتا ہے۔اور یہ کہ ہم ترقی کریں آگے بڑھیں یہ تو مبارک ہے لیکن یہ کہ اپنے آپ کو دیکھی سمجھنا اسے میں برا قرار دیتا ہوں ایک انسان جو اپنی موجودہ حالت پر خوش ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔یا دنیا والوں میں سے کسی کے احسان سے خوش ہے اور اس خوشی میں اور کوشش کرتا ہے۔اور آگے بڑھنے کے لئے تیاری کرتا ہے تو وہ بہت اچھی بات ہے لیکن جوا اپنی حالت کو دکھ ہی سمجھتا ہے وہ کبھی آرام میں نہیں ہوتا۔اور احسان فراموشی کے لحاظ سے خواہ خدا کا ہو یا انسانوں کا یہ شخص عذاب کا مستحق ہے ایک لوگوں کا مال چھین لینے والے انسان سے تعلق رکھنے والا انسان کبھی خوش نہیں ہو سکتا۔لیکن ایک مومن مسلمان کا معاملہ تو ایسے خدا کے ساتھ ہے جو رَبُّ العالمین ہے انسان تو انسان چھوٹے سے چھوٹے کیڑوں کے ساتھ اس کا معاملہ ہے کہ حمد ہی حمد اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔انسان جب ایک گھوڑے یا گدھے کے ساتھ خدا کے معاملے پر غور کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی۔ذلیل سے ذلیل۔حقیر سے حقیر چیز خدا کی شفقت اور احسان کے نیچے ہے۔اکثر انسانوں کی حرص کو دیکھ کر مجھے خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو غلہ پیدا ہوتا ہے اگر سب کا سب غلہ ہی پیدا ہوتا تو انسان تمام کو اپنے گھر میں ڈال لیتا اور بیل کو چرنے کے لئے جنگل میں ہانک دیتا اور اس کو ذرا بھی نہ دیتا لیکن اسے تو رب العالمین نے پیدا کیا تھا۔انسان کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے توڑی نکال دی۔اب اگر انسان اسے محروم کرنا چاہے بھی تو محروم نہیں کر سکتا۔بہر حال اسے دینا ہی پڑے گا۔ہر چیز میں یہی حال ہے۔چیونٹی کو کیسا علم عطا کیا ہے۔کیسا تمدن دیا ہے بے نظیر تمدن ہے۔انسان میں بھی وہ نہیں پایا جاتا۔یہ اس میں فطرتی ہے اور انسان کے اپنے اختیار میں چھوڑ دیا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تمدن کے لئے چیونٹی قابل ستائش نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا پتہ چلتا ہے اگر ایک چیونٹی کو ایک دانہ ملتا ہے تو وہ خود نہیں کھائے گی قوم کے خزانے میں داخل کر دے گی۔وہاں سے پھر جب کھائے گی تو سب اکٹھی کھائیں گی۔پھر خواہ کوئی زیادہ کھائے یا کم۔اور لانے کے لئے یہ نہیں کہیں گی کہ فلاں زیادہ لائی ہے اور فلاں کم۔کیونکہ ہر ایک نے دیانت سے کام کیا اس لئے ہر ایک کا حق ہے۔جتنا کھا سکے کھائے یہی تمدن ہے۔جس نے انہیں بچا یا ہوا ہے کیونکہ