خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 87

خطبات محمود جلد (5) ۸۷ پیدا کرنا اور پھر انسان میں اس قدر روحانی ترقیات کا مادہ رکھنا کہ ختم ہی نہیں ہوسکتا کیا یہ سب کچھ اسی لئے ہے کہ انسان دنیا میں کھائے پیئے اور گزر جائے کھانے پینے کے لحاظ سے تو اور جانور اس سے بہتر ہیں ایک گھوڑا اتنا کھا سکتا ہے جتنا انسان سر پر اٹھا سکتا ہے۔اس کے علاوہ اور چیز ہیں۔طاقت۔قد جسم کے لحاظ سے بھی انسان سے بہت بڑی ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ خدا نے انسان کے لئے ان کو مسترد کر دیا ہے۔اس میں ایک بھید ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کا خاص خدا سے تعلق ہو۔باقی جس قدر اشیاء انسان کے لئے پیدا کی ہیں وہ اس لئے نہیں کیں کہ انسان ان پر حکومت کرے اور بس۔بلکہ اس لئے کہ جس قدر سامان وسیع ہو اسی قدر وسیع نتائج نکلتے ہیں۔دیکھو ترکیب جس قدر زیادہ مقدار میں ہوتی ہے اسی قدر زیادہ نتیجہ پیدا کرتی ہے۔دوضرب دو چار ہوتے ہیں لیکن اگر ان اعداد کو دو کی بجائے چار کر دیا جائے تو چار ضرب چار سولہ ہو جائیں گے۔تو جس قدر اعداد بڑھاتے جائیں اسی قدر نتائج بڑے نکلتے جائیں گے۔چونکہ انسان کے اعمال ہی اس کی روحانی لڑی کے بڑھانے والے ہوتے ہیں اس لئے جس قدر یہ زیادہ ہوں گے اسی قدر اس کی روحانیت زیادہ ہوگی۔جب انسان کے متعلق بہت سی اشیاء ہوں گی تو جس قدر زیادہ اشیاء سے معاملہ کرے گا اسی قدر زیادہ اس کے اعمال ہوں گے تو دنیا کی تمام اشیاء اس کی ترقی کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔پس اگر انسان ذرا بھی غور کرے تو اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ جب یہ سب اشیاء میرے لئے پیدا کی گئی ہیں تو ضرور ہے کہ میری پیدائش کی غرض وہ نہیں ہے جو ان کی ہے۔بلکہ کوئی اور اعلیٰ غرض ہے۔اسی بات کو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو کافر ہو گئے اور کہتے ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو اسے ہمارے اعمال سے کیا تعلق ہے۔کہ ہمیں مرنے کے بعد زندہ کرے اور ہم سے کسی بات کے متعلق پرسش ہو۔وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے یہ سب لغو ہے۔اس کے پیدا کرنے سے اس کی کوئی غرض اور منشاء نہیں ہے۔مگر یہ بات نہیں ہے۔ایسا کہنے والے لوگ ہمیشہ نقصان ہی پائیں گے۔کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ان کے لئے پیدا کیا تھا۔اس کو انہوں نے