خطبات محمود (جلد 5) — Page 78
ZA 11 خطبات محمود جلد (5) خود ہر صورت میں منع ہے (فرموده ۷ را پریل ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا :- حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذُلِكُمْ فِسْقُط الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطَرَّ فِي مَخَمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (المائده - ۴) کھانے پینے کی چیزوں میں سے بعض اشیاء سے اسلام نے منع فرمایا ہے اور ان کے کھانے کی اپنے پیروؤں کو اجازت نہیں دی۔وہ سب چیزیں اسی قسم کی ہیں جو انسان کے جسم و انسان کی عقل اخلاق دین اور روح کے لئے مضر ہو سکتی ہیں۔اور جب کوئی انسان ان میں سے کسی چیز کو کھاتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کا اثر اس کے جسم پر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور انسان کی کمزوری اور نقص کی وجہ سے ایک مدت کے بعد اس کی روح پر بھی اثر ہونے لگتا ہے اسی وجہ سے اسلام نے اپنے پیروؤں کو ایسی چیزیں کھانے سے روک دیا ہے۔ہاں بعض صورتوں میں ان کے کھانے کی اجازت بھی دی ہے اور وہ یہ جب کوئی انسان مجبور اور مضطر ہو جائے لیکن اس وقت بھی اتنے ہی کھانے کی