خطبات محمود (جلد 5) — Page 65
خطبات محمود جلد (5) منہ موڑنا پڑتا۔مگر باوجود اس کے ایک قلیل عرصہ میں کروڑوں انسان اسلام لے آئے۔اس کے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام نے دُعائیں کیں اور خدا تعالیٰ نے ان کی دستگیری فرمائی۔ہماری جماعت کی ترقی کا باعث بھی دعائیں ہی ہو سکتی ہیں۔جب تک دعاؤں پر ایسا زور نہ دیا جائے گا کہ اپنی مجموعی اور انفرادی دعاؤں میں رات اور دن کی دعاؤں میں اسلام کے پھیلنے کے لئے دعائیں کی جائیں اس وقت تک ترقی مشکل ہے اور جو ترقی کی اب رفتار ہے اگر یہی رہی تو کئی لاکھ سال کی ضرورت ہے۔مگر اتنی تو کسی قوم کی عمر بھی نہیں ہوتی۔دیکھو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ سلسلہ کے لئے تیرہ سو سال کے بعد جب ایک ایسے مصلح کی ضرورت پڑی جس نے ایک نئی قوم کی بنیاد ڈالی تو اور کونسا سلسلہ ہو سکتا ہے جو اتنے لمبے عرصہ تک چلا جائے۔پس اس بات کی ضرورت ہے۔کہ اشاعت احمدیت کے لئے وہی طریق اختیار کیا جائے جو پہلے لوگوں نے اختیار کیا تھا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء نے دعائیں کیں باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں جو اثر تھاوہ اور کسی کی زبان میں نہ ہوا اور نہ ہوسکتا ہے مگر آپ بھی دعاؤں میں ایسے مشغول ہوتے کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:۳) شاید تو ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک کرے گا۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعاؤں میں ایسے مشغول ہوتے تو ہمارے لئے کتنی ضرورت ہے ہماری جماعت کے کم لوگوں نے اس بات کو اپنے لئے فرض سمجھا ہے۔اور جنہوں نے سمجھا ہے انہوں نے کم سمجھا ہے۔اس لئے میں سب لوگوں کو جگا تا ہوں اور ہوشیار کرتا ہوں کہ اپنی سب دعاؤں سے مقدم اس دعا کو رکھو۔جب بھی کوئی دُعا کرو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے۔سوتے جاگتے یہ دعا ضرور کرو۔تب کامیابی ہو سکتی ہے۔ورنہ جو مشکلات ہیں ان پر غالب آنا آسان کام نہیں۔ایک طرف لاہوری ہمارے راستے میں روک ہیں۔ہمارے مبلغ جہاں جاتے ہیں وہاں ہی ان کے آدمی پہنچ کر ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔دوسرے تمام دنیا سے ہمارا مقابلہ ہے۔اس لئے کئی قسم کی تکلیفیں در پیش ہیں۔کہیں جائدادیں چھینی جاتی ہیں۔کہیں نکاح فسخ کرائے جاتے ہیں کہیں لڑکوں کو سکولوں سے روکا جاتا ہے۔اسی طرح کی اور بہت سی تکلیفیں ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کچھ عرصہ سو گئے تھے اور اب