خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 56

خطبات محمود جلد (5) کیونکہ تبلیغ کے ذریعہ سے ہدایت پہنچ سکتی ہے۔رسول اللہ کے زیادہ شادیاں کرنے میں یہی حکمت تھی۔اگر چہ سیاسی اغراض بھی تھیں۔لیکن سب سے بڑھ کر یہی غرض تھی کہ انہوں نے زیادہ شادیاں کر کے عورتوں کے متعلق علم کو محفوظ کر دیا۔آپ کی بیبیاں اسلام کی دوسری عورتوں کے لئے مبلغہ ہوئیں انہوں نے عورتوں کو اسلام اور ان کے متعلق احکام پہنچائے چار عورتوں کی گواہی دو مردوں کی گواہی کے برابر ہوتی ہے لیکن بعض ایسے فیصلے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں چار گواہ مردوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پس ایسے فیصلے میں آٹھ عورتوں کی گواہی کی ضرورت ہوئی۔اس لئے نبی کریم نے نوکر کے اسے طاق کردیا اور گواہی کامل ہو گئی۔غرض نصف حصہ دین کا جو عورتوں کے متعلق تھا اس طرح پورا ہوا۔دوسری حکمت اس میں نسل کی ترقی کی بھی ہے کہ نسل کے بڑھنے سے خدا کے نام لیوا پیدا ہوں گے اور اسلام کے مبلغ بنیں گے اور اسلام دوسرے مذاہب کو اپنے اندر جذب کرلے گا۔تاریخ پڑھ کر دیکھ لو کہ ترقی کرنے والی قوم کی پہلے نسل کی ترقی ہوئی ہے۔یورپ کے لوگ جزیروں میں جا کر آباد ہوئے ہیں ان کی نسل کی ترقی ہوتی گئی اور اصلی باشندوں کی نسل کی کمی ہوتی گئی۔غرض جس قوم کی ترقی ہونے لگی ہے اس کی نسل بڑھی ہے اور دوسری قوم کی نسل کم ہوئی ہے۔فارس میں مسلمان آئے۔کا کیشیا۔ارض روم۔افغانستان۔بلوچستان۔بخارا۔جاوا۔سماٹرا۔سیلون۔جب یہ قوم اپنی ترقی کے زمانہ میں پہنچی ان کی نسل بڑھی۔ان تمام علاقوں میں عرب نسلیں پائی جاتی ہیں۔اگر چہ یہی عرب رسول اللہ سے پہلے بھی موجود تھے۔کیوں ان کی ترقی اس وقت نہ ہوئی اور کیوں ان کی نسلیں اس وقت نہ پھیلیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کی ترقی کے ساتھ اس کی نسل کی بھی ترقی ہوئی ہے۔اس لئے اسلام نے نسل کی ترقی کے لئے چار تک بیبیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔جب نسل کی ترقی ہوگی تو اس کے ساتھ دوسری ترقی بھی ہوگی۔تو اس طرف اشارہ کر دیا کہ نسل بڑھاؤ تا کہ بڑے بڑے اعلیٰ قسم کے شخص پید ا ہوں اور وہ اسلام کو قائم کریں۔نسل بڑھنے سے تبلیغ کرنے والے بھی بڑھ جاویں گے۔جن جن ممالک میں مسلمانوں نے اس بات پر کہ ایک سے زیادہ شادیاں کریں عمل نہیں کیا۔وہاں پھر اسلام بھی