خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 610

خطبات محمود جلد (5) ۶۰۹ طریق سے نہیں پھیلا۔جس طریق پر ہماری تبلیغ ہو رہی ہے۔پھر کون سا طریق تھا جس سے اسلام دنیا میں پھیلا۔یہ تو نہیں تھا کہ تمام دنیا میں آسمان سے ایک آواز آ گئی تھی کہ اسلام سچا مذہب ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے ہیں۔اس پر لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔بلکہ اس وقت بھی اسلام کوشش اور سعی سے ہی پھیلا تھا۔اور اب بھی اسی طرح پھیلے گا۔لیکن وہ طریق دیکھنے چاہئیں جو اس وقت استعمال کئے گئے تھے۔ہماری جماعت کے موجودہ چندہ کو خواہ کئی گنا بڑھا دیا جائے۔کتاب پر کتاب شائع کی جائے تب بھی ہم تمام تبلیغی ضروریات کے مطابق کامیاب نہیں ہو سکتے۔اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا کیا طریق تھا۔جس سے تمام دنیا میں اسلام پھیل گیا۔سو یا درکھنا چاہیے کہ وہ طریق تبلیغ ہمارے صوفیا کرام رضوان اللہ علیہم کا طریق تھا ہندوستان میں اسلام حکومت کے ذریعہ نہیں پھیلا۔بلکہ حکومت کے آنے سے صدیوں پہلے اسلام ہندوستان میں آچکا تھا۔حضرت معین الدین چشتی کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ ہوئی پھر قطب الدین بختیار کا کی ہے۔فرید الدین شکر گنج سے۔نظام الدین صاحب اولیاء یہ لوگ ملک کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے اور خدا کے دین کی اشاعت میں مصروف ہو گئے۔یہ لوگ تنخواہ دار نہیں تھے۔بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔کچھ حصہ دن میں اپنا کام کرتے تھے اور باقی وقت دین کی اشاعت میں صرف کرتے تھے۔یہی حال دوسرے ممالک کا ہے۔وہاں بھی حکومت کے ذریعہ اسلام نہیں پھیلا۔بلکہ ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ پھیلا ہے۔ے ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کے مسلمہ سردار، والد ماجد کا نام خواجہ غیاث الدین حسن۔آپ حسینی سادات میں سے تھے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی ولادت ۵۳۷ھ اور وفات ۱۳۳ ھ مزار مبارک بمقام اجمیر شریف۔ے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے جانشین وفات دوشنبه ۱۴ ربیع الاول مزار مبارک بمقام دہلی۔آپ حضرت خواجہ بختیار کاکی کے خلیفہ اور اپنے وقت کے غوث و قطب تھے ۵ محرم ۲۳۴ ھ کو وفات پا کر پاکپٹن میں مدفون ہوئے۔خلیفه و جانشین حضرت شیخ گنج شکر۔آپ کا شمار مشائخ عظام میں ہوتا ہے۔ولادت قصبہ بدایون میں اور وفات ۱۸ / ربیع الاول ۲۵ ھ میں ہوئی۔مزار مبارک دہلی میں ہے۔(سفینتہ الاولیاء از دارا شکوہ)