خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 581

خطبات محمود جلد (5) ۵۸۰ ساتھ مقابلہ میں آئے ہیں۔انہوں نے خیال کیا ہے کہ آج تک ہم نے پورے زور کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا۔اگر ابتداء سے ہم ایسا کرتے تو ان کو مٹا دیتے حالانکہ یہ ان کا خیال غلط ہے۔وہ پہلے اپنا سارا زور لگا کر نا کام ہو چکے ہیں۔لیکن معلوم ہوتا ہے۔وہ پہلی کمزوری کو بھول گئے ہیں۔اور اب پھر انہیں یہ وہم ہوا ہے پہلے بھی انہوں نے یہ زور لگایا تھا۔جسے خود پسندی سے بھول گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا مقابلہ پہلے کچھ نہیں کیا۔حالانکہ پہلے مایوس ہو گئے تھے۔مگر اب انہوں نے سمجھا ہے کہ اگر کچھ کریں تو ضرور ہمیں نقصان پہنچا دیں گے۔اور ایسا ہوا کرتا ہے کہ جب مقابلہ میں کسی کو زک ہوتی ہے تو تھوڑی دیر بعد وہ زور لگاتا ہے کہ شاید اب کے کچھ کامیابی ہو جائے۔یہی خیال ہمارے مخالفین کو پیدا ہوا ہے۔پس ہماری جماعت کے ہر ایک فرد کا فرض ہے کہ اس مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کو اپنے اس فرض کی طرف بہت کم توجہ ہے۔آج صرف تقریروں کا زمانہ نہیں۔بلکہ تحریر کا ہے۔اور تحریر سے ایک شخص دُور دُور تک ہلچل ڈال سکتا ہے۔اس زمانہ میں مطابع کی ایجاد اور کاغذ کی کثرت نے حملہ کے طریق کو بدل دیا ہے۔اور جس طرح شرارت کے اسباب زیادہ ہو گئے ہیں۔اسی طرح ہدایت کے سامان بھی بہت وسیع ہو گئے ہیں۔پس زبانی طور پر تبلیغ کا کام کرنے کی بجائے یہ طریق زیادہ مؤثر ہے۔اسوقت ہمارے مخالف انہی سامانوں کے ساتھ اٹھے ہیں۔ستارہ صبح۔ذوالفقار۔اہل حدیث وغیرہ اخباروں میں حملے ہور ہے کئی انجمنیں ہیں جو ٹریکٹ ہمارے خلاف شائع کرتی ہیں اور ان ٹریکٹوں کی بیسیوں تک نوبت پہنچ گئی ہے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک وہ وقت تھا ہمارا قرضہ دشمنوں کے ذمہ ہوتا تھا۔لیکن اب ہمارے ذمہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آجکل جو لوگ لکھ سکتے ہیں۔انہوں نے فرض کفایہ کی طرح دین کی خدمت کو سمجھ لیا ہے وہ کہتے ہیں ہم میں سے فلاں فلاں جو کام کر رہے ہیں۔ہمیں کیا ضرورت ہے۔حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مجموعی طور پر مخالفین کا مقابلہ کیا جائے۔اس لئے میں تمام دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں۔اور ہر ایک ٹریکٹ، اشتہار، اخبار