خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 544

خطبات محمود جلد (5) ۵۴۳ پس حقیقت میں خدا کا ایک ماننا کیا ہے کہ درمیان سے اپنے آپ کو مٹا ڈالے عملی توحید ہی اصلی چیز ہے۔انسان کا نفس اس کو خدا کی راہ سے نہ روکے۔مال اس کو خدا کی طرف سے نہ ہٹا سکے۔رشتہ دار۔خیالات و جذبات۔دولت و جائداد غرض کوئی بھی عزیز چیز ایسی نہ ہو جو اسکے لئے خدا کے رستہ میں روک ہو۔پردہ پھٹ جائے دوئی مٹ جائے ایک خدا ہی خدارہ جائے۔غور کرو مسلمان وہ لوگ تھے جو رسول کریم کے ہاتھ پر اسلام لائے۔انہوں نے اپنے آپ کو اس راہ میں مٹا ڈالا۔انہوں نے تمام عقلی و نقلی دلائل حقانیت اسلام سے گزر کر عملاً ثابت کیا کہ خدا ایک ہے۔نہ نفس ان پر غالب آسکا نہ جذبات انکے لئے ٹھوکر کا موجب بن سکے کوئی روک ان کے درمیان حائل نہ رہی۔لیکن ایسی توحید پرست قوم جس نے زبانوں اور قولوں سے گزر کر عمل سے ثابت کیا کہ خدا ایک ہے۔جب ان میں فتنہ پڑا بھائی نے بھائی کو قتل کیا۔بیٹے نے باپ کو۔شریروں نے فتنہ ڈلوایا وہ امتیاز جو رسول کریم کے باعث قائم ہوا تھا میٹ گیا۔ہم جو ان کا ادب کرتے ہیں صرف اس لئے کہ انکی جنگ بھی توحید کی خاطر تھی اور پھر اخلاص سے تھی لیکن اس میں شک نہیں کہ شریر لوگوں نے اس وحدت کو مٹا ڈالا۔علی کالشکر معاویہ کے مقابلہ میں آگیا اور حضرت عائشہ طلحہ اور زبیر علی کے مقابلہ میں آگئے۔غرض ہر رنگ میں دشمنِ اتفاق و اتحاد نے اتفاق کو توڑ دیا تھا۔وہ ترقی جو مسلمانوں کو ہو رہی تھی رُک گئی۔مگر اس فتنہ میں بھی صحابہ نے ہمت نہ چھوڑی اپنے کام میں لگے رہے۔انہوں نے تشدد سے اس تفرقہ میں بہر حال حفاظت اسلام کے لئے کوشش کی۔بنوامیہ نے تشدد سے کام لیا۔اگر چہ وہ اسلام کے خلاف تھا مگر اسلام کو بچانے والا ضرور تھا۔ان کو چاہیئے تھا کہ لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کیلئے دعاۃ مقرر کرتے اور مبلغوں کے ذریعہ اتحاد پیدا کرتے۔بیشک کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ جابر و ظالم تھے۔مگر ان لوگوں میں ایسے بھی تھے جو اسلام کے نیچے خادم تھے۔ان میں سے بعض پر بڑے بڑے الزام لگائے گئے ہیں۔چنانچہ یزید تو متفقہ طور پر بڑا ظالم۔جابر۔فاسق انسان تھا۔لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انہوں نے اسلام کی حفاظت کی ہے جس کا انکار نہیں کیا