خطبات محمود (جلد 5) — Page 540
خطبات محمود جلد (5) ۵۳۹ ایران میں ہیں ان کے ذریعہ وہاں بھی بیج بویا گیا۔برما میں بھی جماعت قائم ہوگئی ہے۔ان کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔مگر یورپ کے عیسائی یا آریہ یا غیر احمدی وغیرہ لوگ تو حضرت مسیح موعود کا نام پھیلانے کے لئے خرچ کرنے نہیں آئیں گے۔اگر کوئی خرچ کرے گا تو وہ احمدی جماعت کے لوگ ہی ہوں گے۔تو ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں خدا کے کام ہو کر رہیں گے۔مگر جو تم خرچ کرو گے وہ ضائع نہیں ہوگا۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اس کا خدا کی راہ میں خرچ کیا ہوا ضائع ہو جائے گا وہ غلط خیال رکھتا ہے۔اور اس کے لئے بہتر تھا کہ وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔اس کی موت اس کی ایسی زندگی سے بہتر ہے۔مومن خدا کی راہ میں خرچ کر کے ایک کے بدلے میں کم از کم سات سو پائے گا۔یہ جہان ختم ہو جائے گا۔مگر اگلا جہان ختم ہونے والا نہیں۔اس لئے خدا کے انعام بھی ختم ہونے والے نہیں۔وہ شخص جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے دریغ کرتا ہے مال اس کے کام نہیں آئے گا۔جب دفن کر کے آئیں گے تو خزانہ بھی اس کے ساتھ دفن نہیں کر دیں گے۔اور اگر ایسا کر بھی دیں تو اسے فائدہ کیا ہوسکتا ہے۔پس سوچنا چاہیئے کہ وہ وقت جبکہ ماں باپ بہن بھائی تک جواب دیدیں گے اور ہر ایک کو اپنی اپنی ہی پڑی ہوگی۔اس وقت اگر کام آئے گا تو یہی اپنا خرچ کیا ہوا جو کہ خدا کی طرف سے بے شمار ہو ہو کر واپس ملے گا۔یوم یفرّ المرء من اخیہ وامہ و ابیہ وصا حبتہ و بنیہ لکل امرئ منهم يومئذ شان یغنیه (عبس : ۳۵ تا ۳۸) وہ ایسا وقت ہوگا کہ کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ہر ایک شخص اپنی فکر میں ہوگا۔پس دین کی خدمت کی طرف توجہ کرو میں نے تحریک کی تھی کہ ہماری جماعت کا ایک سو آدمی سوسو روپیہ دے۔تا کہ تبلیغ ولایت کا کام چلے۔چنانچہ احباب نے وہ دیا۔اب وہ روپیہ ختم ہو گیا ہے۔اور ضروریات در پیش ہیں۔پس یہاں کے لوگ بھی جلسہ کریں اور باہر کی جماعتیں بھی جلسہ کریں۔اب فضل کے دروازے کھولے گئے ہیں۔جس قدر خرچ کر سکتے ہو کر دو ورنہ وقت آئے گا کہ لوگ خرچ کرنا چاہیں گے مگر ان کے لئے