خطبات محمود (جلد 5) — Page 513
خطبات محمود جلد (5) ۵۱۲ کیونکہ وہ نادار ہیں مگر میرے نزدیک درست نہیں جس بات سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس کو جائز کیا جائے۔صدقہ کے علاوہ اور بھی طریق ہو سکتے ہیں۔جن سے ان کی مدد ہو سکتی ہے اور اس طرح محبت بھی بڑھ سکتی ہے۔وہ ہدایا کا طریق ہے۔اگر ایک دوست کا بچہ آتا ہے تو آدمی اسے کچھ دیتا ہے مگر وہ صدقہ نہیں ہوتا۔اور اس طرح ان میں محبت بڑھتی ہے۔اسی طرح سید آنحضرت کی بیٹی کی اولاد ہیں۔اب انکو بھی ہدایا دیئے جائیں اس احسان کے بدلہ میں جو آنحضرت کا ہم پر ہے۔آنحضرت نے ہمیں کفر سے نکالا ظلمتوں سے باہر لائے۔پس اس فضل کی وجہ سے ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی لڑکی کی اولاد کے ساتھ ویسا ہی دوستانہ سلوک کریں۔بلکہ اس سے بڑھ کر کریں جیسا کہ آپ دوسرے دوستوں سے کرتے ہیں۔وہ صدقہ نہیں کھا سکتے۔اس لئے ہم ان کو بطور ہدا یا دیں۔ہم ان کو خدا تعالیٰ کی محبت کے طور پر دے سکتے ہیں۔ان کو آنحضرت سے نسبت ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے بات تو گندی ہے لیکن ہے درست۔کیونکہ پتہ لگتا ہے کہ نسبتوں کا بھی کہاں تک خیال ہوتا ہے۔گو واں نہیں پے واں کے نکالے ہوئے تو ہیں کعبه سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دُور کی حضرت صاحب نے قصیدہ الہامیہ میں فرمایا ہے: اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کا خر کنند دعوی حب پیمبرم خواہ غیر احمدی ایک نبی کے انکار کی وجہ سے کا فر ہی ہو گئے ہیں۔مگر وہ کہتے تو ہیں کہ ہمارا آنحضرت سے تعلق ہے۔جہاں وہ ایک نبی کے منکر ہیں وہ ایک سے پیار کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔پس سیدوں کو آنحضرت سے تعلق نبی ہے۔اس لئے جہاں میں آپ لوگوں کو صدقات کی طرف متوجہ کرتا ہوں وہاں یہ بھی بتاتا ہوں کہ میں نہیں چاہتا کہ صدقہ کسی فتوی سے سیدوں کے لئے جائز کر دیا جائے۔رسول کریم کے ہم پر احسانات ہیں اسکے بدلہ میں سیدوں کو ہدیہ دیئے جائیں۔رسول کریم خود بھی ہد یہ کھاتے تھے۔پس رمضان ایک سبق ہے بعد میں کسی کو یادر ہے یا نہ رہے اب اس کام کو کرو کہ خدا کے فضلوں کے وارث بنو۔الفضل ۲۱/۲۴ جولائی ۱۹۱۷ء)