خطبات محمود (جلد 5) — Page 508
خطبات محمود جلد (5) ۵۰۷ ادا نہیں کریں گے جب پوچھا جائے کہ وقت پر کیوں نہیں ادا کیا تو کہہ دیتے ہیں جی کوئی لینے نہیں آیا تھا کس کو دیتے یہ عجیب جواب ہے کیا جو شخص بیمار ہو۔وہ خود طبیب کے پاس جاتا ہے یا طبیب اس کے پاس آتا ہے۔کوئی بیمارا پنا علاج نہ کرائے کہ چونکہ طبیب میرے پاس نہیں آیا اس لئے میں علاج نہیں کراتا بھوکا کھانے کے پاس نہ جائے کہ چونکہ کھانا میرے پاس نہیں لایا گیا میں کیسے کھا تا اور پیاسا پانی نہ پئے کہ پانی خود میرے پاس نہیں آیا۔میں نہیں پیتا۔تو یہ عذر کسی کا بھی درست اور جائز نہیں۔بعض لوگوں کو جب تبلیغ کے لئے کہا جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں۔ہمیں بولنا نہیں آتا۔پس اگر واقعہ میں کوئی شخص اللہ کے حضور میں اس کا عبد ہے تو کوئی مذہب نہیں کہ جس کے مقابلہ کیلئے وہ تیار نہ ہو اور اسکی غلطی پر اسکو آگاہ نہ کر لے۔منہ سے اقرار کچھ وقعت نہیں رکھتا جب تک فعل سے ثابت نہ کیا جائے کوئی شخص جب تک اپنی جان مال تک اس راہ میں قربان نہیں کرے گا وہ کیسے اللہ کا عبد ثابت ہوگا۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ انعام والے بندوں کا راستہ نہیں ملے گا۔جب تک ان کی ایسی باتیں اختیار کی نہیں جائیں گی۔قرآن بتلاتا ہے کہ موسیٰ نے نبوت سے قبل ظالموں کے ظلم مٹائے۔آنحضرت نے دعوی سے قبل لوگوں کی اصلاح فلاح و بہبود کے لئے انجمنیں قائم کی تھیں۔اور آپ کے دل میں تڑپ تھی کہ خدا کے بندے کسی اور کے بندے نہ ہو جا ئیں۔حضرت صاحب کے بھی دعویٰ سے قبل اس وقت کے مشہور اخبارات میں غیر مذاہب کے رد میں مضامین نکلا کرتے تھے۔پس جب تک عملاً الحمد للہ کو ثابت نہ کیا جائے اور پوری کوشش نہ کی جائے کہ خدا کے بندے کسی اور جگہ نہ جانے پائیں اسوقت تک انسان عبد نہیں کہلا سکتا۔انعامات کا مستحق بندہ اسی وقت ہوتا ہے جب مالک کی راہ میں کسی چیز کی بھی پرواہ نہ کرے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دے کہ وہ اپنے فرض کو سمجھے اور اسکا پورے طور پر احساس کرے کہ ہم جو اقرار کرتے ہیں وہ پورے بھی کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض اور عہدوں کے پورے کرنے کی توفیق دے وہ لوگ جنہوں نے سچی تعلیم کو اب تک قبول نہیں کیا۔ان تک حق پہنچائیں تا وہ خدا کے حضور یہ نہ کہیں کہ ہمیں کسی نے حق نہیں پہنچایا تھا۔الفضل ۱۴ ؍ جولائی ۱۹۱۷ء)