خطبات محمود (جلد 5) — Page 473
خطبات محمود جلد (5) ۴۷۲ طرح ممکن ہے کہ وہ لوگ اسلام قبول کریں۔لیکن زمانہ کے تغیرات مجبور کر رہے ہیں۔اور حالات اس قسم کے پیدا ہور ہے ہیں کہ لوگ اسلام قبول کریں۔اور اس قسم کے فرق دُور ہو جا ئیں۔شراب تو اس جنگ کی وجہ سے ایسی رو کی جا رہی ہے کہ روس جس میں 4 کروڑ روپیہ صرف محصول شراب کا ہی وصول ہوتا تھا۔حکما بند کر دی گئی ہے۔اور شراب کے تمام کارخانوں پر سرکار نے قبضہ کر لیا ہے۔کیونکہ تمام قسم کی تیز شر ہیں جنگی سامان میں صرف کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ فرانس اور انگلینڈ میں بھی اس کے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کو وہ لوگ اس قسم کا جرم خیال کرتے تھے کہ جس کی معافی نہیں ہو سکی تھی۔مگر اب یورپ کے رسالوں میں کثرت سے ایسے مضامین شائع ہورہے ہیں جن میں کثرت ازواج پر زور دیا جاتا ہے۔اور کہا جاتا ہے کہ اس جنگ سے جو نسل کو نقصان پہنچا ہے۔اس کا علاج بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ایک مرد کئی شادیاں کرے۔پھر بہت سے لوگ گورنمنٹ کو ایک ایسا قانون بنانے کا مشورہ دے رہے ہیں کہ جس سے قانونا ایک سے زیادہ بیویاں کرنا جائز ہو۔اور جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر باز پرس نہ ہو اور کوئی سزا نہ دی جائے۔یعنی اگر کوئی کرے تو گورنمنٹ کے حکام اس قانون پر عمل نہ کریں۔یہ مضامین نویں مثالیں دے دے کر ثابت کر رہے ہیں۔ایک سے زیادہ بیویاں کرنا بہت مفید ہے انہوں نے بلغاریہ کی مثال دی ہے کہ جب جنگ نے اس کے مردوں کو گھٹا دیا توانہوں نے پھر ایک سے زیادہ بیویاں کیں جس سے ان کی وہ کمی پوری ہونے لگ گئی۔پھر مردوں کے لئے ہی مضامین اس مسئلہ پر نہیں نکل رہے ہیں۔بلکہ عورتوں کے رسالوں میں بھی ایسے مضامین زنکل رہے ہیں کہ اب عورتوں کو قربانی کرنی چاہیئے۔جبکہ مردا اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ عورتیں اپنے خیالات کو بھی قربان نہ کریں۔پس عورتوں کو دوسری شادی سے بُرا نہ منانا چاہئیے۔خواہ انہیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔ہر ایک عورت کو اولاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ایسے مضامین کا صاف طور یہ مطلب ہے کہ کئی کئی عورتیں ایک مرد سے شادی کریں۔ورنہ ہر ایک عورت اولا د کس طرح پیدا کر سکتی ہے جبکہ عورتوں کی تعداد پہلے ہی مردوں سے زیادہ تھی۔اور اب تو جنگ کی وجہ سے بہت ہی زیادہ ہوگئی ہے۔تیسرا مسئلہ سود کا ہے۔شراب اور کثرت ازواج کا تعلق تمدن سے ہے۔مگر سود کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق تمدن کے علاوہ سیاست سے بھی ہے مگر اہل یورپ ابھی تک اس کے لینے دینے کی ضرورت پر قائم ہیں۔مگر انشاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جبکہ اس کے متعلق بھی اسلام