خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 444

خطبات محمود جلد (5) ۴۴۳ ہیں۔لیکن یہ درست نہیں ہے۔سیاست کا تعلق ہر ایک انتظامی بات سے ہے۔اور جس طرح سلطنتوں کی سیاست ہوتی ہے۔اسی طرح مذہب کی بھی ایک سیاست ہے۔سیاست کہتے ہیں اس انتظام کو جس کے ماتحت کسی کام کرنے والی جماعت کی طاقتیں محفوظ ہو کر ایک قاعدہ کے ماتحت اس طرح آجائیں کہ نہ ان سے اس قدر زیادہ کام لیا جائے جس سے آئندہ قوم کام کرنے کے قابل نہ رہے۔اور نہ اتنا کم کہ کوئی کام ہی انجام نہ پاسکے۔پس سیاست نام ہے جماعت کے اس انتظام کا جو مناسب حدود پر قائم کیا جائے۔یہ آیت جو میں نے اس وقت پڑھی ہے۔اس میں کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو ان پر عمل کرو۔ہدایتیں جو اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں نہایت مکمل اور نہایت ضروری ہیں۔کیونکہ یہ اس ہستی کی طرف سے ہیں جو عالم الغیب ہے۔ان پر عمل کرنا کسی ایسی قوم کے لئے جو دنیا میں ترقی کرنا چاہتی ہو نہایت ضروری ہے۔چونکہ ہماری جماعت کے لوگ بھی یہاں اسی غرض سے جمع ہوئے ہیں کہ وہ ایسی تجاویز سوچیں جن سے ترقی کر سکیں۔اور آئندہ کے لئے اپنے طریق عمل پر غور کریں۔پس میں اس آیت کے معنے بیان کر دیتا ہوں تا کہ مشورہ دیتے وقت اس آیت کا مضمون آپ لوگوں کو مد نظر ر ہے۔فرمایا۔یا ایها الذین امنو اصبروا۔اے مومنو! اگر تم چاہتے ہو کامیاب ہونا تو آؤ ہم تمہیں کامیابی کے گر بتاتے ہیں۔جن پر عمل کرنا یقینی کامیابی حاصل کرنا ہے۔پہلا گر یہ ہے کہ تم اپنے اندر صبر کا مادہ پیدا کرو کہ اگر تم پر مصائب اور مشکلات آئیں تو تم ان کو برداشت کر سکو۔اپنے اندر دلیری پیدا کرو۔جو مضر باتیں ہیں ان سے بچنے کے لئے سخت کوشش کرو۔اور جو مفید ہیں ان کے حصول کے لئے بہت سعی کرو۔بہادری پیدا کرو۔مشکلات و مصائب پر مت گھبراؤ۔نا امیدمت ہو۔بُری بات نظر آئے تو اس سے رک جاؤ۔اچھی کے حاصل کرنے میں بڑھے جاؤ۔یہ ہیں معنی اصبروا کے۔جب کوئی قوم بڑھنا چاہتی ہے تو دوسری اس کا مقابلہ کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ اسے نہ بڑھنے دے۔کیوں؟ اس لئے کہ بڑھنے والی قوم اسی صورت میں بڑھے گی کہ دوسری کو فنا کر دے۔اور ان کو نگل جائے۔پس چونکہ دوسری قومیں اس نئی قوم کے بڑھنے میں اپنی فنا دیکھتی ہیں تو وہ اپنی بقاء کے لئے اس کا مقابلہ ضروری سمجھتی ہے۔اور جب تک کوئی قوم دوسری مد مقابل قوم کو اپنے اندر جذب نہ کر لے اس وقت تک وہ ترقی نہیں کر سکتی۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق محدود نہیں۔مگر جب کوئی مخلوق ترقی شروع کرتی ہے۔تو دوسری کا خاتمہ ہوتا ہے۔اگر سمندر ترقی کرے تو خشکی باقی نہیں رہے گی۔اگر خشکی بڑھے گی تو سمندرکم ہو جائے گا۔کوئی چیز ہو۔کوئی نسل ہو۔جب وہ