خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 432

خطبات محمود جلد (5) ۴۳۱ ظاہر نہ کیا جائے۔ایسے الہامات اس وقت کی مصلحت کے خلاف ہوتے ہیں۔اور صرف نبی کو کسی خاص غرض کے لئے بتائے جاتے ہیں۔مگر اس پیشگوئی کے متعلق حیرت ہوتی تھی کہ حضرت مسیح موعود نے اس کو شائع کیا ہے۔اور بڑے زور کے ساتھ شائع کیا ہے۔مگر اب جبکہ اس کے باقی حصے پورے ہورہے ہیں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہم اس کی اشاعت نہیں کر سکتے۔کیونکہ زار روس گورنمنٹ برطانیہ کا حلیف ہے۔اور گوہم کسی واقعہ پر اس لئے خوشی نہ کرتے کہ زار روس کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس لئے خوشی کرتے کہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔جیسا کہ جب مبارک احمد فوت ہوا تو حضرت مسیح موعود نے خوشی کا اظہار کیا۔مگر یہ خوشی لڑکے کے مرنے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اس لئے تھی کہ اس طرح ایک پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔اسی طرح ہم اگر سلطنت روس کے متعلق خوشی کرتے اور گوافسوس بھی ہوتا۔تا ہم ہماری وہ خوشی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہوتی۔اور ہماری نیت نیک ہوتی۔مگر اس کا لوگوں پر اظہار ظاہر میں یہی نتیجہ نکالنے پر مجبور کرتا تھا کہ گویا ہم سلطنت روس کے مصائب اور مشکلات پر خوش ہو رہے ہیں۔اور ایسا کرنا اپنی گورنمنٹ کے خلاف کرنا تھا۔اس سے ہم حیران تھے کہ اگر یہی حالت رہی تو ہوگا کیا۔ہمارے خیال میں یہی تھا کہ سلطنت روس کو اس شعر کے مطابق کوئی نقصان پہنچے گا۔اور اس کو ہم اچھی طرح ظاہر نہ کر سکیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی منشاء کچھ اور تھی۔جو ہمارے خیال میں نہیں آتی تھی۔اور اب بالکل صاف اور واضح طور پر ظاہر ہوگئی ہے۔سو وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود نے یہ نہیں فرمایا کہ ع بلکہ یہ فرمایا ہے کہ ع روس بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار اس سے پتہ لگتا ہے کہ روس کی ساری سلطنت کو چھوڑ کر جو صرف زار کا نام لیا گیا ہے اور اس کی حالت زار بتائی گئی ہے تو اس پیشگوئی کا تعلق زار کی ذات خاص سے تھا۔گویا اس پیشگوئی میں جس کا نقشہ ان اشعار میں کھینچا گیا ہے۔ایک اور پیشگوئی زار کے متعلق تھی جس کے متعلق بتادیا کہ وہ بھی اس وقت پوری ہوگی جبکہ یہ جنگ شروع ہوگی جس کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور خبریں آگئی ہیں کہ جب لوگوں نے دیکھا کہ زار اور اس کے وزراء جنگ میں پوری کوشش اور سعی نہیں کرتے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو ہٹا دیا جائے۔چنانچہ اب زار کو معزول کر دیا گیا ہے اور پارلیمینٹ قائم ہو گئی ہے۔اور ہماری گورنمنٹ نے بھی نئی جمہوریت کو تسلیم کر لیا ہے۔گویاوہ مصیبت جس کا ذکر پیشگوئی میں ہے وہ زار پر ہی پڑی۔اب ہم اس کو جس قدر بھی شائع کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اب تو ہماری گورنمنٹ نے خود اس خبر کو شائع کیا ہے۔اور