خطبات محمود (جلد 5) — Page 34
خطبات محمود جلد (5) ۳۴ جتنی پہلی قوموں کو کرنی پڑی تھیں۔پس ہماری ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ابتلاء آئیں اور ایسے ایسے ابتلاء آئیں جن میں جان۔مال۔اولا د وطن وغیرہ چھوڑ نے پڑیں۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے لئے خدا کے فضل سے بڑی آسانیاں ہیں۔کیونکہ ہندوستان میں ایک ایسی گورنمنٹ قائم ہے جس کی وجہ سے ہر طرح کا امن و امان ہے۔مگر مسیح موعود صرف ہندوستان کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ تمام دنیا کے لئے آئے تھے اور ہماری جماعت صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہے بلکہ افغانستان اور دیگر ممالک میں بھی ہے۔افغانستان میں ہماری جماعت کے لئے وہ آسانیاں نہیں ہیں جو ہمیں یہاں میسر ہیں۔بلکہ ان کے لئے بہت مشکلات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہاں ہمارے دو آدمی شہید ہو گئے ہیں مگر تم کوئی قوم ایسی نہ دیکھو گے کہ وہ ایک غالب قوم بنی ہو اور اس کے صرف دو ہی آدمی شہید ہوئے ہوں۔قوم اس طرح بنا کرتی ہے کہ ایک کے بعد دوسرا دوسرے کے بعد تیسرا تیسرے کے بعد چوتھا اور اسی طرح سینکڑوں اور ہزاروں قربان ہوتے ہیں اور جب ایک حصہ قوم پر مشکل اور مصیبت آتی ہے تو دوسرا حصہ اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ایک حصہ اپنی جانیں قربان کرتا ہے تو دوسرا حصہ مال قربان کرتا ہے۔صحابہ کرام کو دیکھو۔مہاجرین نے اپنے ملک چھوڑے۔جائداد میں چھوڑیں۔وطن سے بے وطن ہوئے تو انصار نے اپنی جائدادیں اور مال انہیں بانٹ دیئے۔غرض اگر قوم کے ایک حصہ کو ایک رنگ میں قربانی کرنی پڑتی ہے تو دوسرے کو دوسرے رنگ میں۔اور ایک حصہ پر ایک رنگ میں ابتلاء آتا ہے تو دوسرے حصہ پر دوسرے رنگ میں۔میرا منشاء یہ ہے کہ ہماری جماعت کو ہر وقت ہر ایک قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئیے۔یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری جماعت پر کسی اور رنگ میں ابتلاء لے آئے۔یا اپنے فضل سے ایسے ابتلاء لائے جو سخت نہ ہوں۔مگر انسان کا کام یہی ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کے لئے تیار رہے کہ اگر مجھے کسی وقت وطن۔مال۔اولا د اور جان قربان کرنا پڑے تو کر دوں گا۔دیکھو جو سپاہی بخاری باب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ومسلم کتاب الجہاد باب رد المہا جرین الی الانصار۔