خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 426

خطبات محمود جلد (5) ۴۲۵ ادنی ور نہ شک اور شبہ سے انسان کبھی یقین اور اطمینان تک نہیں پہنچ سکتا۔شبہ ہمیشہ شبہ ہی ہے۔دُنیا اس وقت تک قرآن کریم کی خوبیوں کے مقابلہ میں کوئی خوبی نہیں پیش کر سکی۔جو اُٹھا ہے اس نے اپنی طرف سے نقائص اور شکوک ہی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ شک کا نتیجہ شک ہی ہوتا ہے۔اور یقین کا نتیجہ یقین۔پس قرآن کریم کی مخالفت کر نیوالوں کو یقین پیش کرنا چاہئیے۔نہ کہ شک و شبہات۔مگر اس وقت تک کسی کی طرف سے یقین نہیں پیش کیا گیا۔بلکہ جب بھی کسی نے حملہ کیا ہے۔کوئی نہ کوئی اعتراض ہی جڑ دیا ہے۔اور یہ ہمت کسی کو نہیں ہوئی کہ قرآن کریم کے مقابلہ میں کوئی اعلیٰ تعلیم پیش کرتا۔حالانکہ فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ جس چیز کو ناقص اور خراب قرار دیا جائے اس کے مقابلہ میں بہتر اور اعلیٰ پیش کی جائے۔مثلاً کونین ہے بخار کے لئے کیا ہی اعلیٰ درجہ کی مفید ثابت ہوئی ہے۔مگر کئی دیسی اطبا اس تعصب کی وجہ سے جو انہیں انگریزی دواؤں کے ساتھ ہے۔باوجود اس کے کئی فوائد کے اور قریبا یقینی فوائد کے اس کے متعلق شبہ پھیلاتے رہتے ہیں کہ اس سے کان بہرے ہو جاتے ہیں۔جگر بڑھ جاتا ہے۔یہ نقص پیدا ہو جاتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔کیا ان کے اس طرح کہنے سے کونین کا استعمال بند ہو گیا ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ محض شبہات اور شکوک کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔اور نہ ہی ان کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے۔ہاں اگر کوئی اور دوائی پیش کر کے ثابت کر دیں کہ وہ نقص جو کونین میں پائے جاتے ہیں اس میں نہیں ہیں تو پھر کو نین کو کوئی استعمال نہ کرے گا۔بلکہ اس دوائی کو ہی استعمال کیا جائے گا۔تو یہ تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ نقائص اور شکوک نکالنے سے کوئی چیز مغلوب نہیں ہوسکتی۔مغلوب اسی وقت ہوتی ہے جبکہ اس سے بہتر اور اعلی دکھائی جائے۔قرآن کریم پر جس قدر حملے کئے گئے ہیں۔وہ صرف نقائص نکالنے اور شکوک پیدا کرنے تک ہی محدود ہیں۔یہ نہیں کہ کسی نے اس سے بڑھ کر اور بہتر تعلیم بھی پیش کی ہو۔حالانکہ یہی وہ معیار ہے جس سے فیصلہ ہو سکتا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کو ایسی تعلیم ملی ہے کہ جس کا کوئی دوسری تعلیم مقابلہ نہیں کرسکتی۔بڑے بڑے مخالفوں نے مقابلہ کی کوشش کی۔بڑے بڑے اعتراضات کئے گئے۔اپنے خیال میں بڑے بڑے نقائص نکالے گئے (اس وقت یہ بحث نہیں کہ ان کے اعتراضات اور نقائص درست بھی تھے یا نہیں) مگر ان سے جو کچھ ہو سکا۔وہ یہی کچھ تھا۔نہ کہ اس کے علاوہ کچھ اور لیکن کیا وہ قرآن کریم کی تعلیم سے بہتر کوئی تعلیم پیش کر سکے۔ہرگز نہیں۔پس اس سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کی الہامی کتاب ہے۔کیونکہ ساری دنیا بھی اس کا صحیح طور پر مقابلہ نہیں کر سکی تو ایسی تعلیم کے ملنے پر بے اختیار مسلمان کے منہ سے الحمد للہ نکل جاتا ہے۔پس یہ ابتدا الحمد سے