خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 415

خطبات محمود جلد (5) ۴۱۴ مقرر کردہ پہلے ان ابتلاؤں کو جو خُدا نے اس کے اختیار میں دے رکھے ہیں اپنے پر وار د نہیں کرتا تو خُدا خود اسے ابتلا میں ڈالتا ہے۔اگر وہ ٹھنڈے پانی کی وجہ سے نماز ادا کرنے سے جی چراتا ہے جسے وہ گرم بھی کرسکتا تھا تو اُسے ایسے ٹھنڈے پانی میں غرق کر دیا جاتا ہے جس سے وہ بھی نکل نہیں سکتا۔اور اگر وہ اپنی خوشی سے خُدا کے لئے ۱۲ گھنٹے فاقہ برداشت نہیں کر سکتا تو خدا اس کو ایسے فاقہ میں ڈال دیتا ہے کہ اسے مانگنے سے بھی کچھ نہیں ملتا۔پھر اگر وہ خدا کی رضا کے لئے اپنی خوشی سے زکوہ نہیں دیتا تو خدا اس کا سارا مال برباد کر دیتا ہے اور وہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔پھر اگر انسان خود اپنی خوشی سے خدا کی راہ میں عمر بھر میں باوجود ہر قسم کی سہولتوں اور ہر قسم کے امن و امان کے ایک دفعہ بھی حج نہیں کرتا تو خُدا ایسی جلا وطنیوں میں ڈال دیتا ہے کہ اسکو اپنے وطن کا کچھ پتہ نہیں رہتا۔لیکن اگر یہ خود بخود اپنے لئے ان سزاؤں کو جو اس کے اختیار میں خُدا نے رکھی ہیں تجویز کر لے تو اس پر کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔بلکہ اس حالت میں خدا تعالیٰ اس کا ممد و معاون ہوتا ہے۔ہاں اگر وہ اُن ابتلاؤں سے جی چرائے تو اس کے لئے کوئی مرد نہیں رہتا۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کو وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کیا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام مقرر فرمائے ہیں ان میں سے تبلیغ ہے۔مدرسہ ہے۔رسالہ ہے لنگر ہے وغیرہ وغیرہ۔ان کی ضرورت دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔چاروں طرف سے مبلغوں کے مانگنے کی صدائیں آ رہی ہیں۔ان کاموں کو چلانے کے لئے حضرت مسیح موعود نے ہر ایک احمدی پر اس کی حیثیت کے مطابق چندہ مقررفرمایا ہے جس کا ادا کرنا ہر ایک پر فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے ماتحت بہت سے ایسے ہیں جو اپنی حیثیت سے بھی بڑھ کر چندہ دیتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو حیثیت کے مطابق دیتے ہیں۔اور بہت سے ایسے ہیں جو حیثیت سے کم لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو مطلق کچھ نہیں دیتے۔میں ایسے لوگوں کو یہ اصل یاد دلاتا ہوں کہ تم نے حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر اقرار کیا ہوا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے۔لیکن اگر تم اس اقرار کو پورا نہیں کرو گے تو بتلاؤ کہ پھر تم سزا کے مستوجب ٹھہرو گے یا نہیں۔ضرور تم سزا کے مستوجب ٹھہرو گے۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسی کہ گورنمنٹ کے وزراء نے کہی کہ اگر تم خوشی سے گورنمنٹ کو قرض دو تو سود ملے گا۔اور اگر نہیں دو گے تو پھر ایسے قوانین بنائے جائیں گے جن کے ماتحت تم کو مجبور ادینا پڑے گا۔اور اس وقت تم کو اس شرح سود سے بھی جو اسوقت دیا جاتا ہے نہیں دیا جائے گا۔پس یہی حال یہاں بھی ہوگا۔اگر اپنے عہدوں کو یاد کرو اور خوشی سے ان کاموں کو انجام دیتے رہو جو خدا کا مسیح تم پر مقرر کر گیا ہے تو بڑا نفع اور بڑا فائدہ پاؤ گے۔