خطبات محمود (جلد 5) — Page 323
خطبات محمود جلد (5) ۳۲۳ تمام لوگ یہاں تک عداوت اور دشمنی کرتے ہیں کہ اس سے مل کر کھانا نہیں کھاتے اور پانی تک نہیں پیتے۔لیکن جب کوئی چوری ہو اور اس کے رشتہ داروں پر اس کا شبہ ہو تو آکر کہتے ہیں کہ اگر یہ کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان لیں گے۔وہ یہاں آکر کہا کرتا ہے کہ ایسے موقعہ پر میرے لئے بہت مشکل ہو جاتی ہے۔اگر میں سچ بات کہوں تو میرے رشتہ دار مجھے مارتے ہیں کہ تو نے کیوں ہماری چوری بتادی۔اور جھوٹ میں کہہ نہیں سکتا۔ان کو بہتیرا کہتا ہوں کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو مجھے تو تم کافر کہتے ہو جاؤ کسی اور سے دریافت کرلو لیکن وہ نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ تو ہے تو کا فرلیکن جھوٹ کبھی نہیں بولتا ہم تجھ سے ہی گواہی لیں گے۔جب وہ اس بات پر زور دیتے ہیں تو میرے رشتہ دار بھی مجھے کہتے ہیں کہ تم گواہی دے دو لیکن ساتھ ہی اشاروں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا نام نہ لینا لیکن میں سچی گواہی دے دیتا ہوں اس پر وہ مجھے مارتے اور تنگ کرتے ہیں۔تو ہمارے دشمنوں کو اقرار ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ جھوٹ نہیں بولتے۔اور یہ بھی وہ مانتے ہیں کہ مرزا صاحب کے ماننے کی وجہ سے ان میں یہ تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔وہ ہماری جماعت کے لوگوں کی عزت کرتے اور دوسروں سے بڑھ کر اعتبار کرتے ہیں تو یہ ہم پر کس قدر خدا تعالیٰ کے فضل ہیں۔پھر ہماری جماعت کا ہر ایک فرد غور کرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا اس کے راستہ میں کس قدر مشکلات اور مصائب آئیں مگر مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے کی وجہ سے اُس کی یہ مشکل کس طرح دُور ہوگئی۔پس اگر ہم خدا تعالیٰ کے ان فضلوں کو دیکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے ہم پر ہوئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ہم جتنی بھی کوشش کریں اسی قدر تھوڑی ہے میں یہ مانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ جس قدر دین کی خدمت کرتے ہیں اُس قدر اور کوئی نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے مقابلہ میں ہم نے کس قدر شکر گزاری کی ہے۔یہ اور بات ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی شکر گذاری کرتے ہیں لیکن انعام کے مقابلہ میں یہ شکر گزاری بہت کم ہے اور کسی چیز کا اعلیٰ درجہ کا ہونا مقابلہ سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ایک اینٹ بھی سطح زمین سے اونچی ہوتی ہے مگر ایک مکان سے اونچی نہیں۔اسی طرح کئی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اعلی ہوتی ہیں مگر دوسری کے مقابلہ میں علی نہیں ہوتیں۔ہم ایک ایسے شخص کو جو کچھ کام کرتا ہے اُن لوگوں سے اچھا کہیں گے جو سارا دن بیکار پڑے رہتے ہیں۔لیکن اس کو اس کے مقابلہ میں اچھا نہیں کہہ سکتے جو سارا دن کام کرتا ہے کیونکہ جس قدر وہ مزدوری پاتا ہے کام اُس سے بہت کم کرتا ہے۔پس ہماری جماعت کو یہ نہیں دیکھنا چاہئیے کہ ہم دوسرے لوگوں سے بڑھ کر کیا کرتے ہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے جو انعام اُسے دئے ہیں ان کے مقابلہ میں وہ کیا کرتی ہے۔اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص اپنے مال کا کچھ حصہ خدا کی راہ میں دیتا