خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 315

۳۱۵ 36 خطبات محمود جلد (5) ۱۳۳۵ھ کی آمد (فرموده ۳ / نومبر ۱۹۱۶ء) سورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدُه ! اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان بہت وسیع ہیں۔کوئی ادنیٰ سے ادنی مخلوق بھی یہ نہیں کہ سکتی کہ مجھ پر خدا کا کوئی احسان نہیں۔کیوں۔اس لئے کہ ہر ایک چیز کا وجود اللہ کے فضل کے ماتحت پیدا ہوا ہے۔اور جوبھی مخلوق ہوگی وہ خدا کے زیر احسان ہی ہوگی اور ایسی کوئی چیز ہے نہیں جو مخلوق نہ ہو۔پس ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ادنیٰ سے ادنی کپڑے سے لے کر بڑے سے بڑے فرشتے اور نبی تک تمام اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کے نیچے ہیں اور کسی کا کوئی دم ایسا نہیں گذرتا کہ اللہ کے احسانوں کے نیچے وہ زندگی نہ بسر کر رہا ہو لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے فضلوں اور احسانوں سے خاص حصہ پاتے ہیں۔اس لئے گو ہر ایک انسان بلکہ ہر ایک جاندار پر اللہ کا شکر ادا کرنا پر فرض اور واجب ہے مگر ان لوگوں، ان جماعتوں اور ان گروہوں کا خاص فرض ہوتا ہے جو اس کے انعامات سے خاص حصہ پاتے ہیں اور جولوگ اپنے او پر خدا تعالیٰ کے انعامات کے ہوتے ہوئے پھر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے یا ادا کرنے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں یا ان میں سے کچھ افراد شستی دکھاتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے بہت دُور جا گرتے ہیں اور بہت سخت سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے قانون کے ماتحت اور اس قانون کے ماتحت کہ جو جب سے دُنیا کا سلسلہ شروع ے ابراہیم : ۸