خطبات محمود (جلد 5) — Page 313
خطبات محمود جلد (5) اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ سُست ہوتے ہیں انہوں نے اپنی شستی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ ڈھکونسلا بنالیا ہے کہ جو کچھ ہونا ہوتا ہے تقدیر سے ہوتا ہے۔یہ تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں بعض تو قضاء و قدر کے ماتحت کہتے ہیں جف القلم بما هو كائن کہ جو کچھ ہونا ہے وہ پہلے ہی سے مقدر ہو چکا ہے اور اس طرح وہ سامان سے انکار کر دیتے ہیں۔اور یہ دُنیا داروں کا طریق ہے کہ بدفعلیاں کیں اور قضاء قدر کے ذمہ لگا دیں۔بعضوں نے دُعاؤں کے رنگ میں سامان کو ترک کر دیا ہے اور بعضوں نے توکل کے ماتحت۔حالانکہ اسباب نہ دعا کے خلاف ہیں نہ قضاء و قدر کے خلاف اور نہ توکل کے خلاف۔کیونکہ یہ بھی تو خدا کے ہی پیدا کئے ہوئے سامان ہیں اور کام میں لانے کی غرض سے پیدا کئے گئے ہیں۔حضرت عمرؓ کے وقت جب طاعون نے زور پکڑا تو آپ نے حکم دیا کہ منتشر ہو جاؤ اور اپنی جگہوں کو چھوڑ دو۔تو بعض صحابہ نے اعتراض کیا کہ آپ خدا کی قضاء سے بھاگتے ہیں۔آپ نے فرما یا نفر من قضاء الله الى قضاء الله کہ ہم خدا کی ایک قضاء سے بھاگ کر اس کی دوسری قضاء کی طرف پناہ لیتے ہیں۔تو سامان بھی خدا کے ہی پیدا کردہ ہیں ان سے کام لینا اس کی قضاء کے خلاف نہیں۔اگر جبر تسلیم کیا جائے تو پھر خدا تعالیٰ ظالم ٹھہرتا ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی کوئی خوبی خوبی ہی نہیں رہتی تا آپ سے کسی کے دل میں محبت پیدا ہو سکے۔ایک جبریہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کے بڑے ہونے میں آپ کی کوئی خوبی نہیں خدا نے پکڑ کر آپ کو بڑا بنادیا تو آپ کی ساری محنت، ریاضت اور خدا کی راہ میں مصائب کا جھیلنا کچھ چیز ہی نہ سمجھا جائے گا۔آپ کا دُنیا میں صداقت کا پھیلا دینا کچھ وقعت نہیں رکھتا وہ کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے اگر محنت کی تو خدا نے پکڑ کر کرائی۔غرض اس طرح آپ کی کوئی خوبی بھی تسلیم نہیں کی جاسکتی۔آپ کی جو خوبی بھی دیکھے گا کہے گا یہ دراصل خدا کا فعل تھا آپ کا اس میں کیا دخل تھا۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ سامان سے پورے طور پر کام لینے میں ہی مومن کی ترقی ہے اور مومن ہر رنگ میں ترقی کرتا ہے۔صحابہ نے تجارت میں ترقی کی حکومت میں ترقی کی ، علوم میں ترقی کی۔غرض مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر رنگ میں دوسروں پر غالب رہے۔صنعت اختیار کرے تو اُس میں اور حرفت اختیار کرے تو اُس میں۔تجارت اختیار کرے تو اس میں ایک مومن کی یہی خواہش ہونی چاہیئے کہ وہ دوسروں پر غالب رہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں صرف دینی ترقی کی ہی کوشش محدود نہیں بلکہ جس نے ے مسلم کتاب السلام باب الطاعون والطيرة نيز الفاروق حصہ اوّل مصنفہ مولا ناشبلی نعمانی۔