خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 312

خطبات محمود جلد (5) ۳۱۲ شاگرد کا امتحان لے تو پھر کسی انسان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا امتحان لے بندہ کا یہ کام ہرگز نہیں اور جو ایسا کرتا ہے وہ اپنے آپ کو انعام النبی کا نہیں بلکہ عذاب الہی کا مستحق بنا تا ہے۔جولوگ دُعاؤں کے عادی ہیں وہ اس بات کو کبھی نہ بھولیں۔صدقہ و خیرات وغیرہ جس قدر بھی محبت اور قربت الہی کے ذرائع ہیں ان پر عمل کرتے ہوئے جو دُعا کرے گا وہ اپنے آپ کو فضلِ الہی کا مستحق بنائے گا۔اسی طرح دُنیوی ترقی کے لئے بھی۔مثلاً تجارت ہے، حرفت ہے۔جو کوشش اور محنت کرتا ہے اور پھر ساتھ ہی دعا بھی کرتا ہے اس کو خدا تعالیٰ ترقی دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے سامان کو ترک کرنا اس کی ہتک کرنا ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کی محض دعاؤں کی خدا کو کوئی پرواہ نہیں۔مثلاً کسی نے امتحان دینا ہے۔اب وہ کہے کہ مغز خوری کون کرے چلو دُعا کر کے امتحان میں شریک ہو جائیں گے ایسا شخص سوائے اس کے کہ ناکام رہے اور کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔تو مقصد کے حصول کے لئے سامان کو مہیا کرنا اور اس سے کام لینا ضروری ہے اور پھر اس کے ساتھ دعا کی بھی سخت ضرورت ہے کیونکہ بعض انسان سامان مہیا کر لیتے ہیں اور ان سے کام بھی پورے طور پر لیتے ہیں مگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔ان کی ساری محنت ضائع جاتی ہے۔تو دُعا کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نتیجہ بھی خیر نکلتا ہے اور محنت کا ثمرہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پورا پورامل جاتا ہے۔بعض لوگ سامان کو تو کل کے خلاف سمجھتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں لاہور سے گاڑی میں سوار ہوا اور اُسی گاڑی میں پیر جماعت علی شاہ بھی تھا۔اُس نے کوئی ایسی چیز کھانے کو مجھے دینی چاہی جو میں نے کھانسی اور نزلے کے لئے مضر سمجھی اور کہا کہ مجھے نزلہ ہے میں نہیں کھا سکتا۔پیر صاحب نے دیکھا کہ یہ موقعہ ہے کچھ تصوف کا اظہار کروں۔بولے۔ریزش نزلہ کا کیا ہے اگر خدا کو منظور نہیں تو آپ کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔میں نے کہا پیر صاحب اگر آپ تھوڑی دیر پہلے یہ بتاتے تو آپ اور ہم دونوں فائدے میں رہتے اور وہ اس طرح کہ لاہور سے ہم ٹکٹ ہی نہ خریدتے بلکہ ٹانگے پر بھی پیسے نہ خرچ کرتے اگر خدا کو منظور ہوتا تو وہ مجھے یونہی قادیان اور آپ کو امرتسر پہنچا دیتا ( میں لاہور سے قادیان آرہا تھا اور وہ امرتسر ) کہنے لگے۔خیر یہ تو سامان ہیں۔میں نے کہا پھر یہ بھی تندرستی کو قائم رکھنے کے سامان ہیں۔کہنے لگا ہاں ہاں میرا بھی یہی مطلب تھا۔تو بعض لوگ سامان کا انکار قضاء و قدر کے ماتحت کر دیتے ہیں کہ اگر ایسا ہونا ہے تو ہو ہی جائے گا ہمیں کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اگر یہ بات صحیح تسلیم کی جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا بدکاروں اور کافروں کو سزائیں دینا محض ظلم سمجھا جائیگا اس کی تو ویسی ہی مثال ہو جائے گی کہ ایک شخص کے ہاتھ میں چھری پکڑا کر اور پھر اس کے ہاتھ کو پکڑ کر ایک دوسرے کے گلے پر پھیر کر قتل کر دیتا ہے۔اور پھر اس کو پھانسی پر لٹکاتا ہے کہ تو نے اسے کیوں قتل کیا۔